مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 561
561 کریں کہ جو تخمینی وزن ان کی تعلیم کا یونیورسٹی نے لگایا تھا ان کے پاس اس سے بھی زیادہ وزن کا علم موجود ہے تو دنیا میں اس یونیورسٹی کی عزت اور قدر قائم ہو جائے گی لیکن اگر ڈگریاں حاصل کرنے والے طالب علم اپنی بعد کی زندگی میں یہ ثابت کر دیں کہ تعلیم کا جو تخمینی وزن ان کے دماغوں میں فرض کیا گیا تھا ان میں سے بہت کم درجہ کی تعلیم پائی جاتی ہے تو یقینا لوگ یہ نتیجہ نکالیں گے کہ یونیورسٹی نے علم کی پیمائش کرنے سے غلطی سے کام لیا ہے۔پس تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یونیورسٹیاں اتنا طالب علم کو نہیں بنا تیں جتنا کہ طالب علم یونیورسٹیوں کو بناتے ہیں۔یا دو سرے لفظوں میں یہ کہہ لو کہ ڈگری سے طالب علم کو عزت نہیں ہوتی بلکہ طالب علم کے ذریعہ ڈگری کی عزت ہوتی ہے۔پس تمہیں اپنے پیما نہ علم کو درست رکھنے بلکہ اس کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اپنے کالج کے زمانہ کی تعلیم کو اپنی عمر کا پھل نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اپنے علم کی کھیتی کا بیج تصور کرنا چاہئے اور تمام ذرائع سے کام لے کر اس پیج کو زیادہ سے زیادہ بار آور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تاکہ اس کوشش کے نتیجہ میں ان ڈگریوں کی عزت بڑھے جو آج تم حاصل کر رہے ہو اور اس یونیورسٹی کی عزت بڑھے جو تمہیں یہ ڈگریاں دے رہی ہے اور تمہاری قوم تم پر فخر کرنے کے قابل ہو اور تمہارا ملک تم پر اعلیٰ سے اعلیٰ امیدیں رکھنے کے قابل ہو اور ان امیدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھے۔تم ایک نئے ملک کے شہری ہو۔دنیا کی بڑی مملکتوں میں سے بظاہر ایک چھوٹی سی مملکت کے شہری ہو۔تمہارا ملک مالدار ملک نہیں ہے، ایک غریب ملک ہے۔دیر تک ایک غیر حکومت کی حفاظت میں امن اور سکون سے رہنے کے عادی ہو چکے ہو۔سو تمہیں اپنے اخلاق اور اپنے کردار بدلنے ہوں گے۔تمہیں اپنے ملک کی عزت اور ساکھ دنیا میں قائم کرنی ہو گی۔تمہیں اپنے وطن کو دنیا سے روشناس کرانا ہو گا۔ملکوں کی عزت کو قائم رکھنا بھی ایک بڑا دشوار کام ہے لیکن ان کی عزت کو بنانا اس سے بھی زیادہ دشوار کا ہے اور یہی دشوار کام تمہارے ذمہ ڈالا گیا ہے۔تم ایک نئے ملک کی نئی پود ہو۔تمہاری ذمہ داریاں پرانے ملکوں کی نئی نسلوں سے بہت زیادہ ہیں۔انہیں ایک بنی بنائی چیز ملتی ہے۔انہیں آباؤ اجداد کی سنتیں یا روایتیں وراثت میں ملتی ہیں مگر تمہارا یہ حال نہیں ہے۔تم نے ملک بھی بنانا ہے اور تم نے نئی روایتیں بھی قائم کرنی ہیں۔ایسی روایتیں جن پر عزت اور کامیابی کے ساتھ آنے والی بہت سی نسلیں کام کرتی چلی جائیں اور ان روایتوں کی راہنمائی میں اپنے مستقبل کو شاندار بناتی چلی جائیں۔پس دوسرے قدیمی ملکوں کے لوگ ایک اولاد ہیں مگر تم ان کے مقابلہ پر ایک باپ کی حیثیت رکھتے ہو۔وہ اپنے کاموں میں اپنے باپ دادوں کو دیکھتے ہیں۔تم نے اپنے کاموں میں آئندہ نسلوں کو مد نظر رکھنا ہو گا۔جو بنیاد تم قائم کرو گے آئندہ آنے والی نسلیں ایک حد تک اس بنیاد پر عمارت قائم کرنے پر مجبور ہوں گی۔اگر تمہاری بنیاد ٹیڑھی ہو گی تو اس پر قائم کی گئی عمارت بھی ٹیڑھی ہوگی۔اسلام کا مشہور فلسفی شاعر کہتا ہے کہ :