مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 531
531 کے لئے مفید ہو سکتی ہے لیکن ایک عام تصوف کی نظم ان کے لئے زیادہ کار آمد نہیں ہو سکتی اور اس سے جوش دلانے کی غرض بھی حاصل نہیں ہوتی۔اس لئے آئندہ یہ خیال رکھا جائے کہ ایسے مواقع پر ایسی نظمیں رکھی جائیں جو دعائیہ اور جوش دلانے والی ہوں اور پھر سارے خدام پڑھنے والے کے ساتھ ساتھ انہیں دہراتے چلے جائیں۔اس سے طبائع میں جوش پیدا ہوتا ہے اور سننے والے مضمون کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب تو سننے والے کی صرف اس طرف توجہ ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کی تال اور سر کیا ہے اور اس کی آواز کیسی ہے۔آواز اچھی ہوگی تو وہ تعریف کر دیں گے لیکن اگر سننے والا سمجھتا ہو کہ یہ دعا ہے تو وہ اس کے مفہوم کو جذب کرنے کی کو شش کرے گا۔پس آئندہ یہ ہونا چاہئے کہ جب نظم پڑھنے والا نظم پڑھے تو دوسرے بھی اس کے ساتھ شریک ہوں اور ساتھ ساتھ دعائیہ الفاظ کو دہرائیں۔اس طرح دعا کی عادت بھی پڑے گی اور ذمہ داری اٹھانے کا احساس بھی پیدا ہو گا۔اس کے بعد میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہر چیز کے لئے ایک خاص زمانہ اور ایک خاص وقت ہو تا ہے۔کوئی وقت جہاد کا ہوتا ہے۔کوئی وقت روزہ کا ہوتا ہے اور کوئی وقت نماز کا ہو تا ہے اور عقل مند وہی ہو تا ہے جو جہاد کے وقت جہاد کرے ، نماز کے وقت نماز پڑھے اور روزہ کے وقت روزہ رکھے۔یہ نہیں کہ وہ باقی چیزوں کو چھوڑ دے لیکن اس وقت میں اسی چیز پر زور دے جس کے لئے وہ وقت مخصوص ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ بعض گناہوں کو کبیرہ قرار دیتا ہے اور بعض کو صغیرہ۔صوفیاء کرام نے لکھا ہے کہ اس کامطلب یہ ہے کہ جس گناہ میں کوئی انسان مبتلا ہو وہی اس کے لئے کبیرہ گناہ ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ فلاں گناہ کبیرہ ہے اور فلاں صغیرہ یہ خلاف عقل بات ہے۔ایک نامرد کے لئے بد نظری کبیرہ گناہ نہیں ہو گا۔اگر وہ کہتا ہے کہ میں بد نظری نہیں کرتا اس لئے کبیرہ گناہ کا مرتکب نہیں ہوں تو ہم اسے کہیں گے کہ تجھ میں اس کی طاقت ہی نہیں پائی جاتی اس لئے یہ گناہ تمہارے نقطہ نگاہ سے کبیرہ گناہ نہیں۔تمہارے لئے کبیرہ گناہ وہ ہو گا جس کی حرص اور لالچ تمہارے اندر پائی جائے۔غرض جتنا جتنا خطرہ کسی گناہ کا کسی شخص کے لئے ہو گا اتنا اتنا ہی وہ اس کے لئے کبیرہ ہو تا جائے گا اور جتنا جتنا خطرہ کم ہو گا اتنا ہی وہ اس کے لئے صغیرہ ہوتا جائے گا۔گویا ایک شخص کے لئے ایک گناہ کبیرہ ہو گا اور دوسرے شخص کے لئے وہی گناہ صغیرہ ہو گا۔مثلاً ایک ایسا شخص جو غریب ہے ، اس کے بچوں کو کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔ان میں قناعت نہیں پائی جاتی اس کے لئے چوری کا زیادہ امکان ہے لیکن اگر وہ چوری نہیں کر تا تو ایک کبیرہ گناہ سے گریز کرتا ہے اور اگر اس کے لئے جھوٹ کا موقع نہیں لیکن وہ اس سے بچتا ہے تو وہ ایک صغیرہ گناہ سے بچتا ہے کیونکہ اس کے لئے چوری کے موجبات زیادہ تھے اور جھوٹ کے موجبات کم تھے۔لیکن ایک اور شخص ہوتا ہے جس کے سامنے جھوٹی شہادت کا سوال ہوتا ہے۔مثلا کوئی پٹواری ہوتا ہے یا کوئی عرضی نویس ہوتا ہے۔اس کے لئے جھوٹ بولنے کے بہت مواقع ہوتے ہیں۔سینکڑوں آدمیوں سے اس کا کام ہو تا ہے۔مختلف مقامات میں اسے بلایا جاتا ہے اور اس کے لئے ہزاروں ایسے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں جہاں اس