مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 530

530 دره غرض کو پورا کرنے کے لئے وقت نہیں بچتا۔حالانکہ مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیم اس لئے قائم کی گئی ہے کہ ہر چیز حساب کی طرح ہر ممبر کو یاد ہو۔وہ جب بھی کوئی پروگرام بنا ئیں انہیں علم ہونا چاہئے کہ فلاں کام پر کتنا وقت لگے گا فلاں کام پر کتنا وقت لگے گا۔ہم نے فلاں سے کتنی دیر تقریر کرانی ہے اور ہمارے پروگرام کے مطابق اس کے لئے کتنا وقت بچتا ہے۔میں سمجھتا ہوں جب یہ جلسہ ہوا تو ایک خادم کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں کہ وقت کی تقسیم کیسے ہوگی۔پروگرام کا ہمیشہ ناقص ہونا انتظام کی کمی پر دلالت کرتا ہے۔عید کے روز بھی جب مصافحہ کے وقت انتظام کے لئے میں نے قائد مجلس خدام الاحمدیہ کو بلایا تو انہوں نے جو طریق اختیار کیا وہ ماہر فن کا طریق نہیں تھا۔اس میں شبہ نہیں کہ کام تو ہو گیا مگر ایسا نہیں جس کی ان سے امید کی جاسکتی تھی۔اگر ایسا انتظام وہ قادیان میں کرتے تو یقینا ناکام رہتے۔میرے نزدیک جب خدام میں یہ نظام پایا جاتا ہے کہ ہر نو خدام کا ایک گرو لیڈر ہے تو قائد کو جو کام کرنا چاہئے تھا وہ یہ تھا کہ وہ اپنے دو سائفین کو بلاتے اور انہیں دیتے کہ تم میں سے ایک اس طرف کا انتظام کرے اور دوسرا دوسری طرف کا۔بہر حال ہر چیز نظام کے نیچے آنی چاہئے ورنہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم قائم کرنے کی غرض و غایت پوری نہیں ہو سکتی۔پھر میرے نزدیک دعوتوں میں جس طرح پھل رکھا جاتا ہے اس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ چیز کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔رسول کریم مال اللہ فرماتے ہیں كَلِمة الحكمة صالة المُؤمِن أَخَذَهَا حَينَ وَجَدَهَا يعنى کلمہ حکمت مومن کی ملکیت ہے۔وہ جہاں اسے دیکھے لے لے۔ہمارے ہاں تو رواج نہیں مگر یورپین ممالک میں Buff System (بنے سٹم) ہوتا ہے۔وہ اس جیسے مواقع پر بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔صرف دو میزیں رکھ کر ان پر پھل لگا دیا جاتا اور پھر مد عو دین سے کہہ دیا جاتا کہ آئیے جو پسند ہو کھا لیجئے۔اس طرح بڑی آسانی سے یہ کام دس منٹ میں ختم ہو جاتا اور جلسہ کی اصل غرض کے لئے زیادہ وقت بچ جاتا ہے۔serve (سرد) کرنے اور پھل اٹھا کر لانے کا وقت بھی ضائع نہ ہو تا۔میرے نزدیک آئندہ اس قسم کی تقریبات کا انتظام بفے سسٹم کی طرز پر ہو نا چاہئے تاکہ اخراجات بھی کم ہوں اور وقت بھی کم صرف ہو۔نظم کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اور لوگ تو محض رسم کے طور پر ان موقعوں پر نظم پڑھ دیتے ہیں مگر ہمارا ظاہری رسوم سے کوئی تعلق نہیں۔ہماری ان موقعوں پر نظمیں پڑھنے سے کوئی نہ غرض ہوتی ہے اور وہ مختلف مواقع کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔مثلاً جلسہ سالانہ کے موقعہ پر بعض دفعہ میں بھی نظم کہہ دیتا ہوں اور دوسرے لوگ بھی مختلف نظمیں پڑھ دیتے ہیں۔کیونکہ اس موقعہ پر مختلف خیالات کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور ہر مضمون کی نظم وہاں بج جاتی ہے۔مگر جب طلبہ اور خدام میں نظم پڑھی جانی ہو تو نظم ان کے مناسب حال پڑھی جانی ضروری ہوتی ہے۔خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ ہر مجلس میں تعلیم کا ایک سیکرٹری مقرر کریں۔جس کا ایک کام یہ بھی ہو کہ وہ جلسوں کے لئے نظموں اور مضامین کا انتخاب کیا کرے اور یہ مد نظر رکھے کہ نظمیں دعائیہ اور جوش پیدا کرنے والی ہوں۔مثلاً پروگرام شروع ہونے سے پہلے کوئی خادم میری ایک نظم پڑھ رہا تھا۔جس میں نماز جیسے دعائیہ فقرات تھے۔اس قسم کی نظم طلبہ اور خدام