مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 528
528 (۱۸ جولائی ۱۹۵۰ء کو کوئٹہ میں مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے اعزاز میں ایک دعوت فواکہہ دی گئی۔جس میں مقامی جماعت کے علاوہ کئی غیر احمدی معززین بھی شریک ہوئے۔اس موقعہ پر قائد مقامی نے حضور کی خدمت اقدس میں اپنے کام کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی۔جس کے بعد حضور نے خدام سے ایک پر اثر خطاب فرمایا۔حضور کا یہ خطاب ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔(مرتب) " دنیا میں اچھا کام کرنا اور اچھے سے اچھا کام کرنا یہ بہت فرق رکھنے والی چیزیں ہیں۔قو میں اپنی ترقی کے وقت بھی اچھا کام کرتی ہیں اور قو میں اپنے تنزل کے وقت بھی اچھا کام کرتی ہیں۔مگر قو میں اپنے تنزل کے وقت اچھا کام کرتی ہیں اور ترقی کے وقت اچھے سے اچھا کام کرتی ہیں۔ترقی کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا اگلا قدم اس کے پچھلے قدم سے آگے پڑے اور جب کسی قوم کی ترقی کسی ایک نسل کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی ترقی اس کی کئی نسلوں کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے تو اس کے ہر فرد کو یہ مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو۔اگر اگلی نسل پچھلی نسل سے اچھی نہ ہو تو اس کا قدم آگے کی طرف نہیں اٹھ سکتا۔در حقیقت مسلمانوں کی تباہی کا بڑا موجب یہی ہوا کہ ماضی کو حال سے کاٹ دیا گیا اور مستبقل کے متعلق انہیں ناامید کر دیا گیا۔انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ماضی اپنی بنیادوں پر قائم ہے۔آئندہ آنے والا کوئی شخص اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔بہر حال ہمیں اپنے اعمال سے اور اپنے طریق سے ایسے کاموں سے احتراز کرنا چاہئے اور نوجوانوں میں ہمیشہ یہ روح پیدا کرنی چاہئے کہ وہ پہلوں سے روحانیت میں بڑھنے کی کوشش کریں۔بنتا نہ بننا الگ بات ہے لیکن کم از کم اس طرح دماغ تو اونچا رہتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص اتنی ترقی نہ کر سکے کہ وہ پہلوں سے بڑھ جائے مگر اسے نیچا کرنے میں اس کی مدد ہم کیوں کریں۔ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو درجہ حاصل ہے وہ ہر شخص سمجھتا ہے۔لیکن آپ کے درجہ کے متعلق سب سے پہلا مضمون جو میں نے لکھا اور وہ تشحیذ الاذہان میں شائع ہوا۔اسے پڑھنے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الاول۔نے مجھے فرمایا میاں تمہارا مضمون تو اچھا ہے مگر اسے پڑھ کر ہمارا دل خوش نہیں ہوا۔پھر آپ نے فرمایا ہمارے بھیرہ کی ایک مثال ہے کہ اونٹ چالی تے ٹو ڈا تالی۔یعنی اونٹ کی تو چالیس روپے قیمت ہے اور اس کے بچہ کی بیالیس روپے۔کسی نے پوچھا یہ کیا بات ہے اونٹ کی قیمت تو بہر حال ایک بچے سے زیادہ ہونی چاہئے۔بیچنے والے نے کہا اونٹ کے بچہ کی قیمت اس لئے زیادہ ہے کہ یہ اونٹ بھی ہے اور اونٹ کا بچہ بھی۔یہ مثال دے کر آپ فرمانے لگے میاں ہم تو امید رکھتے تھے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی بڑھ کر مضمون لکھو گے لیکن ہماری یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ہمارے ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی پوزیشن ایک بڑی پوزیشن تسلیم کی جاتی ہے لیکن میرے اندر ہمت پیدا کرنے کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الاول مجھے یہ بات کہنے سے بھی نہ رکے کہ تمہیں مرزا صاحب سے بھی