مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 510
510 بغیر کوئی تغیر پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ہماری جماعت میں سے ہی جب بعض نوجوان اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں تو ان کے والدین اور بعض کی بیویاں کہتی ہیں کہ کیا اچھا ہو تا کہ اگر زندگی وقف کرنے کی بجائے یہ لوگ کوئی اور کام کرتے اور روپیہ سے جماعت کی مدد کرتے رہتے۔گویا ان کے نزدیک قربانی صرف چند پیسے دے دینے کا نام ہے حالانکہ پیسہ تو باقی سامانوں اور سفر کے اخراجات وغیرہ کے لئے اور لٹریچر کی اشاعت کے لئے ہو تا ہے۔جہاں تک کام کے ذرائع کا سوال ہے انسان بغیر پیسے کے بھی کام چلا لیتا ہے اور پیدل چل کر بھی دنیا کا سفر کر سکتا ہے۔اگر کسی نے انگلستان جانا ہو تو وہ خشکی کے رسے فرانس تک پہنچ سکتا ہے اور فرانس سے انگلستان جانے کے لئے درمیان میں ہیں میل کی کھاڑی ہے وہ کسی نہ کسی طرح عبور کی جاسکتی ہے۔اگر جہاز پر بھی سفر کیا جائے تو کل دو تین روپے لگیں گے جو ایک دن کی محنت مزدوری سے انسان کما لیتا ہے۔اگر کوئی شخص ہندوستان سے پیدل فرانس پہنچنا چاہے تو اس کے لئے خشکی کا رستہ موجود ہے۔یہاں سے بلو چستان بلوچستان سے ایران - ایران سے عراق - عراق سے ٹرکی۔ٹرکی سے یونان - یونان سے یوگو سلاویہ - یوگو سلاویہ سے آسٹریا آسٹریا سے سوئٹزر لینڈ اور سوئٹزر لینڈ سے فرانس یہ تمام رستہ خشکی کا ہے۔ہم تو جلدی پہنچنے اور جلدی پہنچ کر کام شروع کرنے کے لئے مبلغین کو جہازوں پر بھیجتے ہیں ورنہ اگر کسی وقت خدانخواستہ ہمارے پاس روپیہ نہ رہے تو ہم اپنے مبلغین سے کہہ دیں گے کہ وہ پیدل سفر کریں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے چلے جائیں۔غرض مقدم انسان ہے، روپیہ مقدم نہیں۔روپیہ نہ ہو لیکن آدمی ہوں تو کام چل سکتا ہے لیکن آدمی نہ ہوں اور روپیہ ہو تو کام نہیں چل سکتا کیونکہ آدمی روپے کے قائم مقام ہو سکتے ہیں، روپیہ آدمیوں کے قائمقام نہیں ہو سکتا اور پھر قربانیوں میں سے اصل قربانی وہ ہوتی ہے جو ابتدائی ایام میں کی جاتی ہے۔جب دین کو شوکت حاصل ہو جاتی ہے اس وقت کی قربانی انسان کو کوئی خاص مقام نہیں دیتی۔قربانی وہی ہوتی ہے جب ناامیدی کے بادل سر پر منڈلا رہے ہوتے ہیں۔جب تمام دنیا یہ کہتی ہے کہ یہ کام نہیں ہو سکتا لیکن انسان صرف خدا تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے قربانی کرتا چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میر اخدا کہتا ہے کہ یہ کام ہو کر رہے گا۔دنیا بے شک اس بات کو نہ مانے مگر مجھے یقین ہے کہ یہ کام ہو کر رہے گا۔لیکن جب حالات سازگار ہو جائیں اور دنیا بھی یہ کہنا شروع کر دے کہ اب تو واقعہ میں یہ لوگ کامیاب ہو گئے ہیں، اس وقت جو شخص قربانی کرتا ہے وہ بندوں کی زبان پر یقین