مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 504
504 غیر ممالک میں تبلیغ اسلام : فرمایا : - "جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے اب کثرت سے ہمارے نوجوان غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے جارہے ہیں۔جب میں نے شروع میں وقف زندگی کی تحریک کی تھی تو اس وقت چار پانچ سو آدمیوں نے اپنے نام پیش کئے تھے لیکن سب کے سب ایسے نہیں ہوتے کہ ان سے بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کا کام لیا جا سکے۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے تقویٰ اور اخلاص کی وجہ سے نام تو پیش کر دیتے ہیں لیکن ان کی عمر اتنی ہو چکی ہوتی ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے وہ کوئی محنت کا کام نہیں کر سکتے اور ایسی کمزوری کی حالت میں ان کو باہر کام کے لئے نہیں بھجوایا جا سکتا۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ایسے کاموں پر لگے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ پر دینی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو دوسری جگہ کام پر لگایا جائے تو سلسلہ کے کاموں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تا ہے اور جو کام ہم ان سے لینا چاہتے ہیں وہ ان سے کم علم اور کم تجربہ والا بھی کر سکتا ہے اس لئے ان کو ان کی جگہ سے ہلانا عقل کے خلاف ہوتا ہے۔وہ اپنی حیثیت اور تجربہ کے لحاظ سے اس جگہ رہتے ہوئے زیادہ قربانی کر رہے ہوتے ہیں اور جو کام ہم ان سے لینا چاہتے ہیں وہ ایک عام آدمی اسی یا نوے روپے لے کر کر سکتا ہے اور ایسا شخص جو دواڑھائی ہزار روپیہ ماہوار لیتا ہے وہ اتنا چندہ بھی دے دیتا ہے کہ اس سے ایک اور آدمی رکھا جا سکتا ہے اور پھر وہ اپنی جگہ سلسلہ کی ضرورتوں کے مطابق اہم کام کر رہا ہوتا ہے۔پھر بعض واقف زندگی ایسے ہیں کہ ان میں وقف کی اہلیت ہی نہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے نہ ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے کہ ہم عقل سے کام لیں، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں وقف کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی قابلیت نہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جنہوں نے جوش میں آکر اپنے آپ کو وقف کر دیا لیکن در حقیقت ان میں قربانی کا مادہ نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ان پر کوئی مصیبت آئے گی تو ان کا قدم پھسل جائیگا اور وہ خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار بنیں گے۔پھر کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی تعلیمی حالت اچھی نہیں اور ہمیں عموماً تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔گو کبھی کبھار ان پڑھ لوگوں کے لئے بھی موقعہ نکل آتا ہے لیکن فی الحال تحریک جدید کے کام ایسے ہیں جن میں اکثر پڑھے لکھے آدمیوں کی ضرورت ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کی عمر ابھی چھوٹی ہے اور وہ پرائمری یا مڈل میں پڑھ رہے ہیں اور ہمیں ضرورت ہے مولوی فاضل یا گر یجوائیوں کی اس لحاظ سے فی الحال ہمارے کام نہیں آسکتے۔ان سب قسموں کے آدمیوں کو نکال کر ہمارے پاس کل سو ڈیڑھ سو آدمی ایسے ہیں جو ہمارے کام آسکتے ہیں۔ان میں سے سو کے قریب تو کام پر لگ چکے ہیں اور کچھ باقی ہیں وہ بھی عنقریب کام پر لگ جائیں گے۔چونکہ پہلے ہمارے پاس کافی لوگوں کے نام جمع ہو گئے تھے اس لئے میں نے وقف کرنے کی تحریک چھوڑ دی تھی۔میں سمجھتا تھا کہ ان کے کام پر لگنے تک ہمارے اور طالب علم ان کی جگہ آجائیں گے لیکن پچھلے سال جتنے آدمی ہمارے