مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 499
499 رہتا ہوں۔مجھے ڈر آتا ہے کہ میں بھی کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔آپ میرے لئے دعا کریں۔پھر وہ کہنے لگے آپ کبھی لاہور آئیں تو آپ کو پاگل خانہ کی سیر کراؤں گا مگر ان کی باتوں سے مجھے تعجب ہوا کہ انہیں کیوں اس قسم کا وہم ہو رہا ہے کہ پاگل خانے کا اثر ان پر نہ ہو جائے۔ہم ان ڈاکٹر صاحب کے ساتھ پاگل خانہ دیکھنے گئے۔انہوں نے مختلف پاگل ہمیں دکھائے۔ایک پاگل ان میں میر محمد اسمعیل صاحب کے ہم جماعت تھے۔ہمارے ساتھ اس وقت چراغ چپڑاسی تھا جسے وہ جانتا تھا۔اس نے چراغ کو پہچان لیا اور کہا سناؤ چراغ کیا حال ہے۔ہمارے لئے کیا لائے۔اسمعیل (ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب) کہاں ہیں۔چراغ تو اس کی باتیں سن کر گھبرا گیا مگر ڈاکٹر صاحب نے اس پاگل سے کہا میر صاحب ابھی آتے ہیں۔تمہارے لئے تحفے لائیں گے۔ایک اور پاگل انہوں نے دکھایا جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور ڈبل ایم۔اے تھا۔ڈاکٹر صاحب نے اس کے متعلق بتایا کہ یہ بالکل خاموش بیٹھا رہتا ہے اور کھاتا پیتا کچھ نہیں۔اس کی ناک میں نلکی لگا کر ہم اس کو دودھ پلاتے ہیں۔پھر ہم آگے گئے۔باورچی خانہ دیکھا۔وہاں بھی پاگل ہی کام کر رہے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ باورچی خانے میں یہ لوگ خود ہی کام کرتے ہیں۔جن کی حالت ذرا اچھی ہوتی ہے ان کو یہاں لگا دیا جاتا ہے۔ہم نے دیکھا کہ دو پا گل بینگن چیر رہے تھے۔وہ بینگن پر کھرپ مار کر آدھا ادھر پھینک دیتے تھے اور آدھا رکھ لیتے تھے۔ایک نمک پیس رہا تھا۔وہ پیتا جاتا تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد مٹھی میں نمک بھر کر پچھکے مارتا جاتا تھا اور کہتا تھا خدا جانے پسا ہے یا نہیں۔اسی طرح ایک مرچیں کوٹنے والے کو دیکھا کہ وہ کونتا جائے اور ساتھ ہی منہ میں ڈال کر کے خدا جانے باریک بھی ہوئی ہے یا نہیں۔اس کے بعد کچھ خطرناک پاگل قیدی دیکھے جو عجیب عجیب قسموں کے تھے۔ایک نیلی سی دھوتی باندھے آیا اور کہنے لگا میں مہدی ہوں۔ایک اور شخص کہتا تھا میں ایڈورڈ ہوں۔ان لوگوں کے اندر صرف موازنہ کی غلطی تھی۔اپنے آپ کو ایڈورڈ کہنے والا یہ اندازہ نہ لگا سکتا تھا کہ ایڈورڈ کتنا بڑا ہوتا ہے۔اگر وہ اندازہ لگا سکتا تو وہ اپنے آپ کو ایڈورڈ نہ کہتا۔اسی طرح مہدی کہنے والا بھی اندازہ نہ کر سکتا تھا۔ہم آگے گئے تو وہاں ایک امیر پاگل کو دیکھا۔وہ سارا دن شطرنج کھیلتا رہتا تھا۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ایک شخص دکھایا اور کہا یہ پٹیالہ کے علاقہ کے بڑے بزرگ آدمی ہیں اور ان سے کہا کہ یہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (علیہ الصلوۃ والسلام) کے بیٹے ہیں۔اس پاگل نے جو اس وقت پاگل معلوم نہ ہو تا تھا میرے ساتھ بات شروع کر دی اور کہا میں نے براہین احمدیہ پڑھی ہے۔میں نے سرمہ چشم آریہ اور دوسری بہت سی کتابیں مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) کی پڑھی ہیں۔انہوں نے خوب آریوں کا مقابلہ کیا۔اسی طرح وہ بڑی مدلل باتیں کرتا جائے۔میں نے اس سے کہا آپ یہاں کیسے آگئے۔اس نے کہا بات تو دراصل یہ ہے کہ مجھے شرارت سے یہاں بھیج دیا گیا ہے۔میری بہت سی جائیداد تھی جس پر میرا بھائی قبضہ کرنا چاہتا تھا۔اسی کی یہ سب شرارت ہے ورنہ (ڈاکٹر صاحب کی طرف اشارہ کر کے) ان سے پوچھو میں ہر گز پاگل نہیں ہوں۔مجھے خود اس کی باتیں سن کر تعجب ہوا کہ اسے کیوں پاگل خانے میں رکھا گیا ہے۔ہم آگے چلے تو وہ بھی ہمارے ساتھ چل پڑا اور تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا باقی سب باتیں تو ٹھیک ہیں مگر مرزا صاحب سے ایک غلطی