مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 485

485 میرے گھر میں تو سوائے ایک سوکھی روٹی کے جو کئی دن سے پڑی ہوئی ہے اور کچھ نہیں۔آپ نے کہا دکھا ئیں تو سمی وہ کون سی روٹی ہے۔جب وہ سوکھی روٹی رسول کریم میں دیوی کی خدمت میں لائیں تو آپ نے فرمایا پھو پھی ! یہ تو بہت ہی اچھی روٹی ہے۔اس کے سوا اور کیا چاہئے کہ آپ افسردہ ہو رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ میرے گھر میں کھلانے کو کچھ نہیں۔پھر فرمایا پانی ہے ؟ آپ کی پھوپھی پانی لائیں تو رسول کریم ملی و یا لیلی نے وہ سوکھی روٹی اس پانی میں بھگو دی۔اس کے بعد فرمایا سالن ہے۔پھوپھی نے کہا سالن ہمارے گھر میں کہاں سے آیا ؟ اگر ہو تا تو میں پہلے نہ لے آتی۔میرے پاس تو صرف تھوڑا سا کھٹا سرکہ پڑا ہے۔رسول کریم میلی لی نے فرمایا سرکہ سے اچھا سالن اور کیا ہو گا؟ لا ئیں اس سے روٹی کھالوں چنانچہ سرکہ لایا گیا اور آپ نے اس سے بھگوئی ہوئی روٹی کھائی۔یہ انگ لگنے والا کھانا تھا کہ رسول کریم میل ل ل ل لو ہم نے سرکہ کو بھی خدا کی نعمت سمجھا اور سوکھی روٹی اس کے ساتھ کھا الله الله کر اس کے فضل کا شکر ادا کیا۔پس در حقیقت ہاضمہ انسان کی اس بشاشت سے پیدا ہوتا ہے جو دل میں پیدا ہوتی ہے۔اگر خوشی سے ایک معمولی چیز بھی کھائی جائے تو وہ بہت زیادہ قوت پیدا کرتی ہے لیکن اگر رنج سے اچھی سے اچھی چیز بھی کھائی جائے تو وہ انسان کے اندر کوئی قوت پیدا نہیں کرتی۔تم لوگ ہر چیز کے متعلق یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں زیادہ ملنی چاہئے تھی مگر کم ملی۔مگر وہ ہر چیز کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں کم ملنی چاہئے تھی مگر زیادہ ملی۔اس وجہ سے ان کی ایک ایک روٹی انہیں وہ فائدہ پہنچادیتی تھی جو تمہیں دس دس روٹیاں بھی فائدہ نہیں پہنچاتیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کمی غذا کا شکار ہو لیکن میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں تمہیں نہیں ہیں رونیاں بھی اپنے سامنے کھلاؤں تو تم پہلے سے زیادہ دبلے ہوتے چلے جاؤ کیونکہ تم میں امنگ نہیں اور تم میں سے بعض نے ابھی ایمان کی حلاوت بھی نہیں چکھی۔تمہارے دل اس حقیقت سے قطعی طور پر بے خبر ہیں کہ تمہیں خدا نے ایک عظیم الشان روحانی کام کے لئے پیدا کیا ہے اور جسے خدا روحانی انقلاب کے تغیر کے لئے پیدا کرے اس کے مقابلہ میں دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی بیچ ہو تا ہے۔اگر بجائے اس کے کہ تم اپنے مقام کو سمجھو اور اپنے فرائض کا صحیح احساس پیدا کرو تم نہایت ادنی اور ذلیل اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہو اور کہتے ہو مجھے یہ نہیں ملا مجھے وہ نہیں ملا۔جب تک تمہارے اندر یہ احساس پیدا نہ ہو کہ تمہیں خدا نے کسی غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور جب تک تم اپنے درجہ کو نہ پہچانو اس وقت تک تم نے کام کیا کرنا ہے۔تم کو خدا نے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تمہارا دل خوشی کی لہروں سے ہر وقت پر رہنا چاہئے اور تمہارے اندر ہر وقت بیداری اور ہوشیاری نظر آنی چاہئے۔اگر یہ چیز تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو فوری طور پر تم میں ایسی قوت پیدا ہو جائے کہ قلیل سے قلیل خوراک بھی تمہیں کام کرنے کے قابل بنادے۔میں نے دیکھا ہے کہ آج کل کے نوجوانوں سے بڑھے زیادہ کام کر لیتے ہیں۔ڈلہوزی جاتے ہوئے مجھے ہمیشہ اس کا تجربہ ہوتا ہے۔میرے ساتھ چونکہ دفتر کے علاوہ انجمن کے کلرکوں میں سے بھی ایک کلرک جانا ضروری ہوتا ہے اور میں کام کسی قدر سختی سے لیتا ہوں اس لئے ایک دو مہینہ کام کرنے کے بعد ہی ان کی طرف