مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 478

478 نفع بخش ثابت نہیں ہو گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تبلیغ اسلام کی خاص بنیا د رکھی جائے گی اور اس وقت اسلام کو اتنا غلبہ حاصل ہو گا کہ لوگوں کا ایمان لانا اتنا نفع بخش نہیں ہو گا جتنا پہلے ہو سکتا تھا۔پہلے تو اسلام کی آواز ایسی ہی ہوگی جیسے ایک وحید و طرید انسان کی ہوتی ہے مگر پھر دنیا کے چاروں طرف مبلغ پھیل جائیں گے۔قرآن کے تراجم شائع کر دیئے جائیں گے۔لٹریچر شائع ہو نا شروع ہو جائے گا اور اس کے بعد ایک انسان اسلام کی آواز کو اس طرح نہیں سنے گا جیسے اجنبی آواز ہوتی ہے بلکہ وہ اس آواز کو اس طرح سنے گا جیسے ایک شناخت شدہ آواز ہوتی ہے اور ایسی آواز کا انکار اتنا آسان نہیں ہو تا جتنا ایک منفرد آواز کا انکار آسان ہوتا ہے۔یہی معنے اس پیشگوئی کے ہیں کہ اس وقت ایمان قبول کرنا اتنا مشکل نہیں رہے گا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔اس وقت اسلام پھیلانے والے بڑی کثرت سے پھیل جائیں گے۔لوگ اسلام کی تعلیم سے مانوس ہو جائیں گے اور اسلام قبول کرنا ان کے لئے پہلے جیسا دو بھر نہیں رہے گا۔یہ مفہوم ہے جو اس پیشگوئی کا ہے۔پھر وہ زمانہ بھی آجائے گا جب اس پیشگوئی کا دوسرا بطن پورا ہو گا اور مغرب سے اسلام کے مبلغ نکلنے شروع ہوں گے اور مغرب میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو بجائے اسلام کو مٹانے کے اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔پھر وہ زمانہ بھی آئے گا جب اس دنیا پر صرف اشرار ہی اشرارہ رہ جائیں گے اور جبھی سورج بھی مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کرے گا اور دنیا تباہ ہو جائے گی۔یہ سارے بطن ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اس کا ایک بطن یہ بھی ہے جو شمس صاحب کے آنے سے پورا ہوا اور جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کریم میں کی پیشگوئی کے مطابق ہمارا اس وقت کا روحانی حملہ جارحانہ ہو گا جو زیادہ سے زیادہ قوی ہو تا چلا جائے گا۔پس ہماری جماعت کے دوستوں پر بھی اور جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو یکے بعد دیگرے قوم کے نوجوانوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔جب لڑائی نہیں ہوتی تو اس وقت فوجوں کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو جس طرح ایک تنور والا اپنے تنور میں پتے جھونکتا چلا جاتا ہے اسی طرح نوجوانوں کو قربانی کی آگ میں جھونکنا پڑتا ہے اور یہ پرواہ نہیں کی جاتی کہ ان میں سے کون بچتا ہے اور کون مرتا ہے۔ایسے موقعہ پر سب سے مقدم ، سب سے اعلیٰ اور سب سے ضروری یہی ہوتا ہے کہ جیسے پروانے شمع پر قربان ہوتے چلے جاتے ہیں اسی طرح نوجوان اپنی زندگیاں اسلام کے احیاء کے لئے قربان کر دیں کیونکہ ان کی موت کے ساتھ ان کی قوم اور دین کی زندگی وابستہ ہوتی ہے۔اور یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ اگر قوم اور دین کی زندگی کے لئے دس لاکھ یا دس کرو ڑیا دس ارب افراد بھی مرجاتے ہیں تو ان کی پرواہ نہیں کی جاسکتی اگر ان کے مرنے سے ایک مذہب اور دین زندہ ہو جاتا ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے"۔(فرموده ۱۶ اکتوبر ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۶۱ء)