مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 476
476 مغرب سے طلوع شمس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ کی ایک پیشگوئی ہمارے نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے اکتوبر ۱۹۴۶ء بعد نماز عصر جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے جناب مولوی جلال الدین صاحب شمس کی انگلستان سے کامیاب مراجعت اور جناب منیر آفندی الحصنی صاحب امیر جماعت احمد یہ دمشق کی تشریف آوری پر ایک دعوت چائے دی تھی جس میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقعہ پر حضور نے جو پر معارف تقریر فرمائی تھی وہ نو جوانوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے ذیل میں اسے درج کیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا :۔دو چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہونے والا ہے۔اس لئے میں بہت مختصر تقریر کروں گا۔میں اس وقت صرف ایک بات کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔باتیں تو کئی تھیں مگر چونکہ نماز کا وقت تنگ ہے اس لئے میں صرف اس امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالٰی اور اس کے انبیاء کے کلام کے کئی بطن ہوتے ہیں اور ہر بطن اپنے اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔رسول کریم ملی مال کی ہیلی نے قرآن کریم کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کے سات بطن ہیں اور سات مطنوں میں سے آگے ہر بطن کی الگ الگ تفاسیر ہیں۔اسی طرح ایک ایک آیت سینکڑوں اور ہزاروں معانی پر مشتمل ہے۔غلطی سے مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ قرآن کریم صرف چند تفسیروں میں محصور ہے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہر معنے جو عربی زبان سے درست ثابت ہوتے ہیں۔ہر معنے جسے عربی صرف و نحو برداشت کرتے ہیں اور ہر سمنے جو قرآن کریم کی ترتیب سے نکلتے ہیں، وہ درست اور صحیح ہیں کیونکہ اگر وہ معنے خدا تعالیٰ کے مد نظر نہ ہوتے تو وہ ان معنوں کی ضرور تردید کرتا اور ایسے الفاظ نہ بولتا جن سے نئے معنے تو پیدا ہوتے مگر وہ معنے اللہ تعالٰی کے منشاء یا انسانی عقل کے خلاف ہوتے۔بہر حال اس موقعہ پر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رسول کریم ملی ایم کی ایک حدیث میں اس زمانہ کے متعلق ایک اشارہ پایا جاتا ہے (گو اس کے بعض