مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 472
472 باتوں کا وقت گزر چکا۔اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے! مجھ سے خدام الاحمدیہ دہلی کے عہدیداروں نے یہ خواہش کی ہے کہ میں ان کو کچھ نصیحتیں کروں۔جہاں تک باتوں کا تعلق ہے وہ بہت ہو چکی ہیں اور باتوں کا زمانہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔باتیں یا سونے کے لئے کی جاتی ہیں یا کام کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔راتوں کو مائیں بچوں کو سلانے کے لئے باتیں سناتی ہیں اور دن کو لوگ آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ اس طرح ان کو کوئی معقول بات مل جائے جو ان کے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ہماری باتیں سونے کے لئے نہیں ہو سکتیں کیونکہ ایسے مصائب اور دکھوں کے زمانہ میں سونا موت سے کسی طرح کم نہیں ہو سکتا۔باقی رہی دوسری باتیں جو کام میں آسانی پیدا کرتی ہیں وہ بھی کافی ہو چکی ہیں اور مزید باتوں کی کوئی خاص ضرورت نظر نہیں آتی۔ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے ۵۶ سال ہو گئے ہیں۔جس نے اس عرصہ میں باتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی وہ اب آئندہ کی باتوں سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالی نے لاکھوں نشانات دکھائے۔جس شخص نے ان نشانات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی آئندہ ظاہر ہونے والے نشانات اسے کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں"۔" کیا ابھی باتوں کا وقت ختم نہیں ہوا اور کیا اب تک کام کا وقت نہیں آیا۔کیا اب تک کافی نصیحتیں نہیں ہو چکیں جن کے بعد طریق عمل اور ہدایت کار استہ واضح ہو جاتا ہے۔اگر تمہارا طریق عمل یقینی طور پر واضح ہے تو زمانہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تم اپنی زندگی کو اس سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کرو۔اگر تمہاری آنکھیں کھلی ہیں۔اگر تم اپنے اندر فکر کا مادہ رکھتے ہوں تو تمہیں سوچنا چاہئے کہ مسلمان کیا تھے اور کیا بن گئے اور مسلمان کہاں تھے اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے"۔مسلمان نوجوان جغرافیہ پڑھتے ہیں۔نقشہ دیکھتے ہیں۔میں سمجھ نہیں سکتا کہ ان کے اسلام کا شاندار ماضی دل کیوں بیٹھ نہیں جاتے۔کیوں ان کے دلوں میں درد اور اضطراب پیدا نہیں ہو تا۔ایک دن وہ تھا کہ سارا نقشہ اسلامی حکومتوں کے رنگ سے رنگین تھا یا آج یہ حالت ہے کہ یورپین حکومتیں دنیا پر چھائی ہوئی ہیں اور مسلمان ان کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔حالانکہ ایک زمانہ وہ تھا کہ اسلامی رنگ نقشہ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھرا ہوا تھا۔چین میں سینکڑوں سال تک مسلمانوں نے حکومت کی ہے۔یہاں تک کہ آج بھی جاپانی مائیں اپنے بچوں کو یہ کہہ کر ڈراتی ہیں کہ چپ کر۔چپ کر جو گو (یعنی مسلمان ) آگیا۔امریکہ میں بھی بعض مسجدیں پائی گئی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں تک مسلمان پھیلے ہوئے تھے اور فلپائن وغیرہ میں بھی مسلمان موجود تھے۔غرض کوئی گوشہ دنیا کا ایسا نہ تھا جہاں اسلامی حکومت قائم نہ تھی۔وہ حکومتیں ملکی حکومتیں تھیں۔امپیریلزم نہ تھا۔الا ماشاء اللہ اگر کسی زمانہ کے مسلمانوں نے کوئی غلطی کی ہو تو وہ اپنی غلطی کے