مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 467

467 جماعت کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی کوشش کی فرمایا :۔جائے " آج میں بعض امور کے متعلق جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔غالبا پچھلے سال میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں اور وہ لوگ جنہیں استطاعت نہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ سب مل کر اپنے گاؤں کے کم از کم ایک اچھے اور ہونہار طالب علم کو اعلیٰ تعلیم ولا ئیں اور پھر وہ طالب علم جب بر سر کار ہو تو آگے کسی اور طالب علم کی پڑھائی کا بوجھ اٹھائے۔اس طرح وہ طالب علم دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائے گا اور دوسرے طالب علموں میں بھی تعلیم کا شوق پیدا ہو گا۔ترقی کرنے والی قوم کے لئے ایک نہایت اہم سوال ہوتا ہے کہ اس کے جوان زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوں کیونکہ تعلیم یافتہ آدمی بات کی تہہ تک جلدی پہنچ جاتا ہے اور جس پیشے کو وہ اختیار کرتا ہے اس میں بہت جلد مہارت حاصل کر لیتا ہے اور ہر وقت یہ بات اس کے مد نظر رہتی ہے کہ میں قوم کا ایک مفید جزو بنوں اس لئے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔اگر تعلیم کی طرف پوری توجہ دی جائے اور جس رفتار سے اس وقت طالب علموں کی تعداد بڑھ رہی ہے اسے پڑھانے کی کوشش کی جائے تو آئندہ دس سالوں میں ہماری جماعت میں ساٹھ فی صدی لوگ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے۔اگر ہر سال ایک ہزار طالب علم کالجوں میں جائیں تو ان میں سے کم از کم پانچ سو گریجوایٹ نکل سکتے ہیں اور اسی قدر ہر سال پنجاب میں مسلمان طالب علم گریجوایٹ بنتے ہیں گویا تعلیمی لحاظ سے ہم سارے مسلمانوں کے برابر ہو جائیں گے۔اس سال تعلیم الاسلام کالج میں ۱۰۲ طالب علم آچکے ہیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ رفتار ترقی پر ہے اور پہلے کی نسبت قریباً ۵۰ فی صدی کی زیادتی ہوئی ہے اور یہ بات خوشکن ہے۔اسی طرح اگر باہر کے کالجوں میں بھی اس سال زیادہ احمدی طالب علم داخل ہوئے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں ہم تعلیمی لحاظ سے ملک پر غلبہ حاصل کرلیں گے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں خود اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ہمیں عربی اور انگریزی کے گریجوایٹوں کی ضرورت ہے جنہیں ہم غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیج سکیں اور وہ وہاں کے علوم اور زبانیں سیکھ کر تبلیغ کریں۔اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں ہمارے علماء کو یہ فوقیت حاصل ہو جائے گی کہ وہ عالم ہونے کے ساتھ مختلف زبانیں بھی جانتے ہوں گے اور وہ مختلف زبانوں میں لیکچر دے