مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 429

429 اسلامی انتظام دیکھ لیا۔مطلب یہ تھا کہ قادیان کی گلیاں بہت گندی اور خراب ہیں۔کیا اسلام یہی سکھاتا ہے ؟ اگر احمدیت کی حکومت ہوئی تو قادیان کو تم نمونہ کے طور پر پیش کرو گے ؟ خلیفہ رشید الدین صاحب کی طبیعت مزاحیہ تھی اور بعض دفعہ ان کا ذہن بہت اچھا چل جاتا تھا۔انہوں نے جواب میں کہا۔ابھی تو اسلامی زمانہ آیا ہی نہیں۔یہ تو پہلے مسیح کے انتظام کا نظارہ ہے کیونکہ اس وقت یہاں انگریزی حکومت ہے۔یہ تھا تو ایک لطیفہ اور سنے والا اس جواب کو سن کر خاموش بھی ہو گیا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک انگریزی حکومت کا دخل ہے ، وہ اس کام کو کرائے یا نہ کرائے اس کے متعلق تو بحث ہی نہیں ، اس میں ہمار ا بھی کچھ دخل ہے۔اور جہاں تک ہمارا دخل ہے ہمیں اپنا فرض ادا کرنا چاہئے۔وقتی طور پر کسی کامنہ بند کرنا اور بات ہے لیکن حقیقت بعض دفعہ اور ہوتی ہے۔میں اسی دن سے ہمیشہ محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں اسلامی نمونہ دکھانا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے کہ قادیان نہایت صاف ستھرا مقام بن جائے۔جہاں تک گلیوں کی چوڑائی کا سوال ہے ، میں نے کھلی گلیاں رکھنے کا حکم دیا ہوا ہے کیونکہ رسول کریم میلی لی ایم کی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔گلیاں چوڑی ہونی چاہئیں۔میں نے سر دست اندازہ لگا کر پندرہ میں فٹ کی وہ گلیاں رکھی ہیں جو مکانوں سے بڑی سڑکوں پر ملتی ہیں اور ان پر تانگہ گذار نامد نظر نہیں اور جن پر تانگے وغیرہ گزار نے مقصود ہیں ، وہ تھیں فٹ کی رکھی ہیں اور بڑے راستے پچاس فٹ کے رکھے ہیں اور دار الانوار میں پچھتر فٹ کی سڑکیں رکھی ہیں لیکن جہاں تک صفائی کا سوال ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔سڑکوں میں بے شمار گڑھے پائے جاتے ہیں۔بعض لوگ سڑکوں سے مٹی کھود کر گھروں کی لپائی کر لیتے ہیں اور یہ ایک بڑا نقص ہے جس کی وجہ سے محلوں کی صفائی قریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔پھر لوگ گھروں سے پاخانے نکال کر اور کوڑا کرکٹ اٹھا کر سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔اس سے مکھیاں پیدا ہوتی ہیں ، مچھر پیدا ہوتے ہیں اور مچھر سے بخار پیدا ہوتا ہے۔بیمار بچے کا پاخانہ اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیتے ہیں۔مکھیاں اس پر بیٹھتی ہیں اور بیماری کا مادہ لے کر کسی دوسرے شخص پر جا بیٹھتی ہیں اور اس وجہ سے اس شخص کو بھی وہی بیماری لگ جاتی ہے۔اس گندگی کی وجہ سے قادیان میں ٹائیفائیڈ کثرت سے ہوتا ہے اور چند سالوں سے تو اتنی کثرت سے ہوتا ہے کہ شائد کسی اور جگہ اتنا ٹائیفائڈ نہ ہو تا ہو گا۔یہ حالات ایسے ہیں جو باہر سے آنے والوں پر برا اثر ڈالتے ہیں۔میں نے جماعت کو عموما اور خدام کو خصوصاً اس امر کی ہدایت کی تھی کہ وہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی کام کو بھی عار نہ سمجھیں اور اس کے لئے میں نے ایک مفصل سکیم خدام الاحمدیہ کے سامنے پیش کی تھی کہ وہ اس طریق پر کام کریں۔میری اس سکیم پر جس حد تک عمل کیا گیا ہے ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور میری وہ سکیم سکڑ سکڑ کر مل کی شکل اختیار کر گئی ہے۔پہلے روزانہ آدھ گھنٹے کام کا اہتمام کیا گیا۔پھر کہا گیا کہ روزانہ آدھ گھنٹہ مشکل ہے، ہفتہ میں ایک بار ہو جائے تو غرض پوری ہو سکتی ہے۔پھر سوال اٹھایا گیا کہ ہر ہفتہ وقار عمل کرنا مشکل ہے۔اگر پندرہ