مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 425
425 اپنی حالت بعض باتوں میں ان سے زیادہ کمزور ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت کا نمونہ اکثر باتوں میں دوسری جماعتوں کی نسبت اچھا ہے لیکن بعض باتوں میں ہم ابھی تک ان کا مقابلہ نہیں کر سکے۔مثلا خاکساروں کی تعداد ہماری تعداد سے بہت کم ہے اور ہماری جماعت ان کی نسبت بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے اور ان سے بہت زیادہ مقامات پر پائی جاتی ہے۔اگر خاکساروں کی طرف سے کسی جگہ پر جانے کا اعلان ہو جائے۔تو بسا اوقات دو دو تین تین ہزار آدمی دو تین مہینے تک ایک ہی شہر میں پڑے رہتے ہیں۔ان کی کبھی یہ غرض ہوتی ہے کہ مسٹر محمد علی جناح پر اثر ڈالیں یا گاندھی جی پر اثر ڈالیں اور کبھی یہ غرض ہوتی ہے کہ لکھنؤ جا کر مدح صحابہ کے جھگڑے کا فیصلہ کرائیں اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں اور ہر شخص اپنے کھانے اور دوسرے اخراجات کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔مگر ہمارے خدام کی یہ حالت ہے کہ اپنے سالانہ اجتماع پر کل اکتیس جماعتوں نے نمائندے بھیجے ہیں۔بے شک ایک سو اکسٹھ خدام اور بھی اپنے طور پر شامل ہوئے ہیں لیکن اپنی خوشی سے شامل ہونا اور بات ہے اور اپنے فرض کو پورا کرنا اور بات ہے۔اور یہ ایک سو اکسٹھ خدام جو آئے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہوں گے جو قریب ترین جگہوں کے رہنے والے ہوں گے یا ایسے ہوں گے جنہوں نے قادیان آنا تھا اور انہوں نے اپنا پروگرام اس اجتماع کے ساتھ متعلق کر لیا۔ان کا آنا خدام الاحمدیہ کے جلسہ کے لئے نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ جس طرح عام طور پر لوگ قادیان آتے رہتے ہیں اسی طرح وہ بھی آئے لیکن اگر وہ بلا استثناء سارے کے سارے خدام الاحمدیہ کے جلسہ کے لئے ہی آئے ہوں تو بھی اس کے یہ معنی ہیں کہ تمام جماعت میں سے صرف ایک سو اکسٹھ خادم ایسے ہیں جنہوں نے اپنے کاموں کا حرج کیا اور خوشی سے خدام الاحمدیہ کے جلسہ میں شامل ہوئے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ آٹھ سو جماعتوں میں سے صرف اکتیں جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے اپنا فرض ادا کیا۔مجھے کہا گیا ہے کہ ہم نے الفضل میں اعلان کیا تھا لیکن چونکہ الفضل ہر جگہ نہیں پہنچتا اس لئے آٹھ سو جماعتوں میں سے صرف اکتیس نمائندے آئے ہیں۔میرے نزدیک یہ بات ماننے کے قابل نہیں کہ آٹھ سو میں ے صرف اکتیس جگہ الفضل پہنچتا ہے اور باقی جگہوں میں نہیں پہنچتا۔یہ تو میں مان سکتا ہوں کہ آٹھ سو میں سے سے سویا دو سو جگہیں ایسی ہو سکتی ہیں جہاں الفضل نہیں پہنچتا لیکن یہ کہ آٹھ سو میں سے صرف اکتیس جگہ الفضل پہنچتا ہے ، یہ میں ماننے کیلئے تیار نہیں۔اگر فرض کر لیں کہ آٹھ سو میں سے دو سو جماعتیں ایسی ہیں جہاں الفضل نہیں پہنچتا اور چھ سو جماعتیں ایسی ہیں جہاں الفضل پہنچتا ہے تو اگر چھ سو جماعتوں میں سے چھ سات سو نمائندے ہوتے تو خیال کیا جا سکتا تھا کہ باقی جماعتوں میں الفضل نہیں پہنچتا اس لئے ان کے نمائندے نہیں آئے لیکن آٹھ سو میں سے تیس چالیس نمائندوں کا آنا خوشکن بات نہیں اور الفضل کا نہ پہنچنا میرے نزدیک کافی جواب نہیں ہو سکتا۔پس میرے نزدیک اس میں بہت حد تک ذمہ داری مرکزی ادارے کی ہے۔مرکز کو چاہئے کہ انسپکٹر بھیج کر اپنی جماعتوں کی تنظیم کرے کیونکہ بغیر انسپکٹروں کے ان بیماروں کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ بیرونی جماعتیں پورے طور پر مرکز کی آواز کو سن سکتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی غلطیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ مرکز