مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 413
413 ہو جائے۔تو یہ انسانی فطرت کا ایک تقاضا ہے اور نسل انسانی کے قائم رکھنے کے لئے خدا نے اولاد کی خواہش پیدا کر دی ہے۔اس کے مقابلہ میں دین اور تقوی کو قائم رکھنے کے لئے اچھی نسل کا تقاضا ہوتا ہے۔جس طرح نسل انسانی کے قائم رکھنے کے لئے اولاد کا تقاضہ ہوتا ہے اسی طرح نیک اور متقی نسل قائم رکھنے کے لئے اچھی اولاد کا تقاضا ہوتا۔جس طرح وہ تقاضا اگر ماں باپ کے دماغوں میں کمزور ہو جائے تو نوع انسانی تباہ ہو جائے اسی طرح اگر یہ تقاضا کمزور ہو جائے کہ دین اور تقوے کو قائم رکھنے کے لئے نیک اولاد پیدا کریں جو کام کرنے والی اور محنتی ہو تو قوم تباہ ہو جائے۔ذرا ایک منٹ کے لئے اس بات کا خیال کر کے تو دیکھو کہ اگر عورتوں اور مردوں کے دل سے اولاد پیدا کرنے کی خواہش مٹ جائے تو کیا نسل انسانی مٹ نہ جائے گی اور دس پندرہ یا بیس سال کے اندر نئی اولاد کا ملنا مشکل ہو جائے گا کہ نہیں۔اسی طرح سوچ لو کہ اگر نیک اور محنتی نسل پیدا کرنے کی خواہش مٹ جائے تو پندرہ بیس سال تک مذہب تباہ ہو جائے گا کیونکہ جب نیک نسل پیدا کرنے کی خواہش نہ ہوگی تو وہ تدابیر بھی اختیار نہیں کی جائیں گی جن سے آئندہ نسل نیک ، متقی ، دیندار اور محنتی ہو۔جس طرح محض اولاد پیدا کرنے کے لئے لوگ دعائیں کراتے ہیں اور و ہمی لوگ تو ٹونے ٹوٹکے کرتے ہیں، قبروں پر جاتے ہیں ، چڑھاوے چڑھاتے ہیں اسی طرح ایک مذہبی انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر اچھی نسل پیدا کرنے کی خواہش ہو اور وہ خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایسے ذرائع استعمال کرے جن سے اولاد نیک ، متقی ، دیندار اور محنتی ہو۔میں نے بارہا جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ سلسلہ اچھے نام کے ساتھ اور حقیقی معنوں میں قائم رہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کو ایک متقی اور محنتی بنا ئیں۔آج دنیا میں مسلمان کہلانے والے بھی موجود ہیں۔عیسائی کہلانے والے بھی موجود ہیں۔ہندو کہلانے والے بھی موجود ہیں۔آخر یہ سب مذاہب شیطان کی طرف سے تو نہیں تھے ، خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے۔اللہ تعالٰی نے ہی کرشن کو بھیجا تھا۔اللہ تعالی نے ہی رامچندر کو بھیجا تھا۔اللہ تعالی نے ہی حضرت مسیح کو بھیجا تھا۔یہ نہیں کہ چونکہ ان کو نعوذ باللہ شیطان نے بھیجا تھا۔اس لئے ان کی قومیں شیطان کے قبضہ میں چلی گئیں بلکہ جس خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔اسی خدا نے آپ کے آقا محمد مصطفی میں یہ کہ ہم کو بھیجا۔اسی خدا نے محمد رسول اللہ میں لال ہی ہم سے پہلے حضرت عیسی (علیہ السلام) کو بھیجا۔اسی خدا نے حضرت موسی کو بھیجا۔اسی خدا نے حضرت کرشن کو بھیجا اور اسی خدا نے حضرت رام چندر کو بھیجا تھا اور جن معجزات اور جن کرامات کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو قائم کیا، ان سے بڑھ کر معجزات اور کرامات کے ساتھ خدا تعالٰی نے محمد رسول اللہ میں امی کی جماعت کو قائم کیا اور گو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جو معجزات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملے تھے سوائے آنحضرت مینی والی ریلی کے جو آپ سے بہر حال بلند مرتبت تھے اور کسی نبی کو ایسے معجزات نہیں ملے مگر بہر حال خدا کی قدرتوں سے ہی عیسی کی جماعت قائم ہوئی۔خدا کی قدرتوں کے ساتھ ہی موسی کی جماعت قائم ہوئی۔خدا کی قدرتوں کے ساتھی ہی کرشن کی جماعت قائم ہوئی اور خدا کی قدرتوں کے ساتھ ہی رامچندر کی جماعت قائم ہوئی مگر کہاں ہیں اب وہ نشانات اور کہاں ہیں اب وہ معجزات جو دلوں کو پگھلا دیتے تھے اور جو حیوانوں کو انسان اور انسان کو فرشتے اور فرشتہ خصلت انسانوں کو خدا کے مقرب اور عرش نشین بنا دیتے تھے۔کہاں ہیں وہ کرامتیں اور وہ معجزات جو را چچند راور کرشن نے دکھائے جنہوں نے ہندؤوں کی کایا پلٹ دی تھی۔کہاں ہیں وہ نشانات جو قرآن مجید میں خداتعالی فرماتا ہے کہ نو بڑے بڑے نشانات حضرت موسی کو دیئے گئے تھے۔کیا ان نشانات میں سے نصف یا ان کا چوتھا حصہ یا ان کا کوئی حصہ بھی اب دنیا میں باقی ہے ؟ حضرت عیسی کی نسبت عیسائی بیان کرتے ہی ہیں، مسلمان بھی ان کو ایسا بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں کہ حضرت عیسی کو تمام انبیاء سے بڑھا دیتے ہیں۔ان کے معجزات میں سے علم غیب۔جانوروں کا پیدا کرنا۔مردوں کو زندہ کرنا۔بیماروں کو پھونک مار کر شفا دینا بہت کچھ بیان کرتے ہیں لیکن جو معجزات بھی تھے ، بڑے یا چھوٹے ' وہ انبیاء کی سنت کے مطابق تھے۔کیا ان معجزات