مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 412
412 بیٹا ڈ پٹی ہو گیا ہے ، بہت خوش ہوا۔اس وقت بڑے سے بڑا درجہ یہی سمجھا جاتا تھا کہ کوئی ہندوستانی ای۔اے۔سی ہو جائے۔اس وقت اسے گورنری کے برابر سمجھا جاتا تھا۔اس لئے وہ بڑے شوق سے اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے گیا کہ ذرا میں بھی جا کر اس کی عزت میں شریک ہوں اور میں بھی لوگوں سے سلام کراؤں کہ میرا بیٹا ڈپٹی ہے۔جب یہ وہاں پہنچا تو ڈپٹی صاحب کرسیاں بچھا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کے دوست ای۔اے۔سہی ، تحصیلدار رؤسا اس کے پاس بیٹھے تھے۔وہ تمام بونڈ سوٹڈ اور عمدہ لباس میں تھے۔یہ بھی اپنی دھوتی جنیو اپنے ایک کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔اس کے لباس سے غربت ٹپکتی تھی۔پہلے بھی غریب تھا پھر لڑکے کی تعلیم اور پڑھانے لکھانے پر جو کچھ تھا وہ سب خرچ ہو چکا تھا۔اب اس کا سارا اثاثہ دھوتی اور جنیو ہی رہ گیا تھا۔یہ بڑے فخر سے جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔اول تو اسے امید تھی کہ میرا بیٹا آگے آکر گلے ملے گا جیسا پہلے ملا کرتا تھا مگر بیٹے نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔اب تو اس بات میں کچھ کمی آگئی ہے مگر پہلے زمانہ میں چونکہ ہندوستانیوں کو اعزاز بہت کم ملتا تھا اس لئے ایسے لوگ دوسرے لوگوں کو بہت حقیر سمجھتے تھے چنانچہ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی ایک شخص کو جو اس قسم کا گند الباس پہنے ، میلی سی دھوتی اور جنیو لٹکائے ہوئے تھا کرسی پر بیٹھے دیکھا تو اس امر کو برا منایا اور حقارت سے کہنے لگے کہ یہ کون بد تہذیب ہے جو بائیں ہیئت ہماری مجلس میں آبیٹھا ہے۔اس نالائق بیٹے نے بھی اپنی عزت جتانے کے لئے ، جسے وہ عزت سمجھتا تھا کہا ایہہ ساڈے گھر دے ٹلئے نے۔" یعنی ہمارا اپر انا نوکر ہے اس لئے گستاخ ہو گیا ہے۔باپ نے سنا اور حقیقت سمجھ لی کہ میرے بیٹے کے دماغ میں تغیر آچکا ہے۔وہ غصہ سے کھڑا ہو گیا اور ان لوگوں کو مخاطب ہو کر کہا کہ ”جی میں انہاں دائہلیا نہیں اینہاں دی ماں دانہ یا ہاں۔" یعنی میں ان کا نوکر نہیں ، ان کی ماں کا نوکر ہوں، اس فقرہ سے وہ لوگ حقیقت سمجھ گئے۔ان کے اندر کچھ حیا تھی۔وہ اس کے بیٹے کو ملامت کرنے لگے اور کہا کہ بڑا افسوس ہے۔آپ کو چاہئے تھا کہ آپ ہمیں ان سے ملواتے اور ان سے انٹروڈیوس (Introduce) کراتے۔لاعلمی میں ان کی شان میں ہم سے ایسے الفاظ نکل گئے جو نامناسب تھے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ماں باپ کی کمزوری اور ان کی ادنی حالت کو دیکھ کر اپنی جگہیں چھوڑ دیتے ہیں ، ملک بدل لیتے ہیں ، وطن جانا چھوڑ دیتے ہیں تاکہ پتہ نہ لگ جائے کہ ان کے ماں باپ غریب تھے اور تاکہ وہ غریب والدین کی اولاد ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں ذلیل نہ ہو جا ئیں۔پس دونوں قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں اور جو گروہ ماں باپ کا نام قائم رکھنے والا ہے، وہ بھی لمبے عرصے تک نام قائم نہیں رکھ سکتا۔اگر ماں باپ کا نام لمبے عرصہ تک قائم رکھنا ممکن ہو تا تو ہمارے ملک میں میراثیوں کو جو شجرہ نسب یاد کرایا جاتا ہے یہ نہ کرایا جاتا۔کسی نے شعر کہا ہے۔عجب طرح کی ہوئی فراغت جو بار اپنا گدھوں پر ڈالا تو جس طرح گدھوں پر بوجھ ڈال کر فراغت حاصل کی جاتی ہے، یہ بھی اسی طرح کی فراغت ہے کہ میراثیوں کو اپنے باپ دادوں کے نام یاد کرا دیئے جاتے ہیں اور کہہ دیا جاتا ہے کہ چلو چھٹی ہوئی۔اب باپ دادا کا نام یا د رکھنے کی زحمت سے آزادی حاصل ہو گئی ہے۔پس انسان کے اندر اولاد کی خواہش پیدا کرنے میں اصل حکمت یہ نہیں کہ باپ دادا کا نام قائم رکھا جائے بلکہ اصل میں تو خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے تسلسل کو اس حکمت کے ماتحت قائم رکھا جائے اور اس حکمت کے ماتحت اس نے ماؤں اور باپوں کے دلوں میں اولاد کی خواہش پیدا کر دی ہے اور سب مرد اور سب عورت الا ما شاء اللہ جس کی فطرت مسخ ہو چکی ہو یا اپنی قوت مرد ہی کھو چکا ہو اس خواہش کے ماتحت ہی اولاد پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہو تا فاقے کر رہے ہوتے ہیں مگر پھر بھی قبروں پر جاکر منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ اولاد ہو جائے۔بھلا کوئی پوچھے ایک روٹی میں تم گزارہ کرتے ہو۔اگر ایک اور آگیا تو تم نصف کھاؤ گے۔اگر ان کو یہ سمجھاؤ تو کہتے ہیں ہاں جی ہم آدھی ہی کھالیں گے مگر بچہ