مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 407

407 تمہاری ماں تاجر ہے اور وہ بد دیانتی کرتی ہے۔اگر تمہاری بیوی تاجر ہے اور وہ بد دیانتی کرتی ہے تو یہ بد دیانتی اس وقت تک ہے جب تک ان کو یقین ہے کہ تم ان کی محبت کی خاطر ان کی رپورٹ نہیں کرو گے لیکن جب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ تم ان کی محبت کی پرواہ نہیں کرو گے اور تم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر وہ بد دیانتی سے باز نہ آئے تو تم اس کی رپورٹ کرو گے تو کیا ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے منٹ میں بددیانتی کریں۔باپ کے گا بیٹا پچھلا جانے دو ، آئندہ میں کبھی بد دیانتی نہیں کروں گا۔بھائی کہے گا پچھلا معاف کر دو ، آج سے میں باز آیا۔بیوی کے گی کہ یہ قصور معاف کر دو ، آئندہ یہ حرکت نہیں کرونگی۔پس جب تم یہ تنبیہہ کر دو گے اور ایسے موقعہ پر ان کی محبت کو قربان کر دو گے تو تم دیکھو گے کہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر بد دیانتی مٹ جائے گی۔پس قوم کی اصلاح تمہارے ہاتھوں میں ہے۔بیٹے کی اصلاح باپ کے ہاتھ قوم کی اصلاح افراد کے ہاتھوں میں ہے میں ہے۔بھائی کی اصلاح بھائی کے ہاتھ میں ہے بیوی کی اصلاح خاوند کے ہاتھ میں ہے اور ماں کی اصلاح بیٹوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر تم اس طریق کو استعمال کرو تو چند دن نہیں بلکہ ایک گھنٹہ کے اندر ساری قوم کی اصلاح ہو سکتی ہے لیکن اگر تمہارا دوست دیکھتا ہے کہ وہ بد دیانتی کرے گا تو تم اس پر پردہ ڈالو گے اور جھوٹ بولو گے تو تم اس کو بھی غرق کرتے ہو اور آپ بھی غرق ہوتے ہو۔کیا تم اس کو پسند کرتے ہو کہ اس کی بد دیانتی پکڑی جائے اور اس کی سزا میں اسے پانچ دس گالیاں یا دو چار تھپڑ پڑیں۔یا تم اس کو پسند کرتے ہو کہ اس کو لاکھ سال تک جلتی ہوئی جہنم میں ڈالا جائے تو تمہارا دوست ان پانچ دس گالیوں یا دو چار تھپڑوں سے اگر بچنا بھی چاہتا ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس کو گھسیٹ کر لاؤ اور اسے تھپڑ اور گالیاں دلاؤ تاکہ اس کی سزا اسی دنیا میں ختم ہو جائے اور وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جائے۔اگر تمہیں خدا پر ایمان نہیں تو پھر بے شک تم اس کو انسانوں کی سزا سے بچاؤ کیونکہ تم سمجھتے ہو کہ خدا کی کوئی سزا نہیں ، اس سے بچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔انسان کی سزا ہے اس سے میں بچاتا ہوں۔پس ایسی بے ایمانی کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔کہ تم اس کو می جرائم میں کسی کی رعایت کرنا خطرناک ہے سزا سے بچانے کی کوشش کرو۔ورنہ قومی جرائم میں کسی کی رعایت کرنا خطرناک چیز ہے۔ہاں فردی خرابی میں پردہ پوشی کرنا بے شک اعلیٰ صفت ہے۔ایک ایسا جرم ہے جس کا زید یا بکر سے تعلق ہے۔مثلا زید سے کوئی غلطی ہوئی یا بکر سے کوئی غلطی ہوئی جس کا صرف ان کے ساتھ ہی تعلق ہے تو ہمارا فرض ہے کہ پردہ پوشی سے کام لیں۔خدا تعالی ان کے گناہ بھی معاف کرے اور ہمارے گناہ بھی معاف کرے۔مگر ایسا جرم جو قوم کے اخلاق بگاڑنے والا ہے اور جس کا اثر ساری قوم پر پڑتا ہے ، ہر شخص جو اس کا ارتکاب کرتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے اور ہر شخص جو اس پر پردہ ڈالتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے اور ہر وہ شخص جس کے دل میں اس جرم کو دور کرنے کی خواہش نہیں ، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔پس آج سے تم یہ فیصلہ کر لو کہ جھوٹ اور بد دیانتی کو مٹانا ہے۔تم یہ کر کے دیکھ لو۔اگر یہ دونوں چیزیں تم اپنے اندر پیدا کر لو گے تو تم دیکھو گے کہ شدید سے شدید دشمن بھی تمہاری تعریف کرنے پر مجبور ہو گا اور اپنی ضرورتوں کے موقع پر وہ تم پر اعتبار اور اعتماد کرے گا۔پس میں جماعت کو آنے والے خطرہ سے جس کی الوصیت میں خبر دی گئی تھی ، آگاہ کرتا ہوں اور یہ نہیں کہ آگاہ کر دینے سے میں اپنے آپ کو ذمہ داری سے آزاد سمجھتا ہوں بلکہ جب تک مجھے خدا تعالی توفیق دے میں اپنی ذمہ داری کو پورے طور پر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور میرا ہی نہیں بلکہ تم میں سے ہر شخص کا فرض ہو گا کہ اس خطرہ سے آگاہ رہے جس کے متعلق آج سے سینتیس سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خبردار کیا تھا۔اگر پھر بھی وہ چور تمہارے گھر میں گھس