مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 401

401 شعار اسلامی کی اہمیت ” میں جماعت کے نوجوانوں کو عموماً اور قادیان کے نوجوانوں کو خصوصاً اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ سالور میں کئی دفعہ میں نے بیان کیا ہے کہ ہماری جماعت کے افراد کو اسلام کے شعار پر عمل کرنا چاہئے مگر مجھے افسوس ہے کہ اس طرف ابھی تک توجہ نہیں ہوئی۔میں نے خدام الاحمدیہ کو بھی توجہ دلائی تھی لیکن انہوں نے بھی توجہ نہیں کی۔میں نے کہا تھا کہ ہر ایک خادم کی نگرانی کی جائے کہ وہ نماز باجماعت ادا کرتا ہے یا نہیں نماز باجماعت کی نگرانی کی جائے لیکن بجائے میری اس ہدایت پر عمل کرنے کے اب ہو نا یہ ہے کہ کئی ایسے لوگوں کو خدام الاحمدیہ کا افسر مقرر کیا جاتا ہے جو کہ خود ہفتہ ہفتہ تک مسجد میں نہیں گھتے حالانکہ یہ ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرے سوائے اس کے کہ وہ بیمار ہو۔بیماری کی حالت میں اللہ تعالٰی نے اجازت دی ہے کہ وہ گھر پر نماز پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ نوجوانوں کے چہروں سے داڑھیاں غائب ہوتی جارہی داڑھی رکھنا بھی شعار اسلامی ہے ہیں۔وہ دن بدن ان کو چھوٹا کرتے جارہے ہیں حالانکہ ہم نے خشخشی کی اجازت تو ان لوگوں کو دی تھی جو استرا پھیرتے تھے۔انہیں کہا گیا تھا کہ تم استرانہ پھیرو اور چھوٹی چھوٹی خشخشی داڑھی ہی رکھ لو لیکن یہ جواز جو استرا والوں کے لئے تھا اس پر دوسرے لوگوں نے بھی عمل کرنا شروع کر دیا اور جن کی بڑی داڑھیاں تھیں ، ان میں سے بھی بعض نے اس جواز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خشخشی کرلیں حالانکہ جو از تو کمزوروں کے لئے ہو تا ہے۔ہمار ا مطلب تو یہ تھا کہ جب استرا پھیرنے والے خشخشی داڑھیاں رکھ لیں گے تو ہم انہیں کہیں گے اب اور زیادہ بڑھاؤ اور آہستہ آہستہ وہ بڑی داڑھی رکھنے کے عادی ہو جائیں گے لیکن اس جواز کا الٹا مطلب لیتے ہوئے بعض لوگوں نے بجائے داڑھیاں بڑھانے کے ، خشخشی کرلیں۔اگر ایک مریض کو ڈاکٹر شور با پینے کے لئے کہے تو کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ پولیس ڈنڈے لے کر تمام لوگوں کو شور با پینے مجبور کرے کہ ڈاکٹر کا حکم ہے کہ شور با دینا چاہئے۔ڈاکٹر کا حکم تو مریض کے متعلق ہے نہ کہ دوسروں کے لئے۔چونکہ جو لوگ داڑھی منڈوانے کے عادی ہوتے ہیں وہ یکدم داڑھی نہیں رکھ سکتے اس لئے ہم نے ان کو اجازت دے دی کہ اچھا تم خشخشی رکھ لو۔اس سے ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ جن کی داڑھیاں بڑی ہیں ' وہ بھی خشخشی کرلیں۔پر اغیار تمہاری وضع قطع اور لباس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ تم میں اپنے مذہب کیلئے کتنی غیرت ہے اصل بات یہ ہے کہ گو داڑھی کو مذہب میں کوئی بڑا دخل نہیں لیکن اغیار تمہاری داڑھیوں کو سر کے بالوں کو اور تمہارے کپڑوں کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ تم اپنے مذہب کے لئے کتنی غیرت اپنے اندر رکھتے ہو اور تم اسلامی شعار کو قائم کرنے کی کس قدر کوشش کرتے ہو۔پہلے مسلمانوں نے چونکہ داڑھی کے معاملے میں کمزوری دکھائی ہے اس لئے فوجوں اور پولیس میں مسلمانوں کو داڑھی منڈوانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔جب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ آخر سکھ بھی تو داڑھیاں رکھتے ہیں، ان سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا تو اسے جواب دیتے ہیں کہ وہ سارے کے سارے داڑھیاں رکھتے ہیں، اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مذہب میں داڑھی رکھنے کا حکم ہے لیکن تمہارے اکثر مسلمان منڈواتے