مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 390
390 اس ارشاد پر سب بیٹھ گئے تو حضور نے فرمایا) قادیان کے خدام الاحمدیہ یا اطفال الاحمدیہ کے وہ ممبر جو قرآن کریم کا سارا تر جمہ پڑھ چکے ہوں کھڑے ہو جائیں (حضور کے اس ارشاد پر ۸۸ ادوست کھڑے ہوئے) حضور نے فرمایا بیرونی خدام کو شامل کر کے ساری تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔پس اس کے معنے یہ ہوئے کہ قادیان کے خدام میں سے قریباً اکیس فی صدی نوجوان قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں۔(اس کے بعد فرمایا) اب جو دوست باہر سے بطور نمائندہ آئے ہیں اور جن کی تعداد ایک سو ہے۔ان میں سے جنہوں نے سارا قرآن کریم ترجمہ سے پڑھا ہوا ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔(۲۳ دوست کھڑے ہوئے۔فرمایا) یہ تعداد قادیان والوں سے بھی زیادہ رہی ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ قادیان والوں میں ۲۷۰ کے قریب اطفال بھی ہیں۔(سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا- یہ تعداد بھی نہایت افسوسناک ہے۔قرآن شریف ہی تو وہ چیز ہے جس پر ہمارے دین کی بنیاد ہے۔اگر ہمارے چنیدہ نوجوانوں میں سے بھی صرف ۲۰ فیصدی قرآن جانتے ہیں کہ اگر ہم ساروں کو شامل کر لیں تو غالباً چار پانچ فیصدی نوجوان ایسے نکلیں گے جو قرآن کو جانتے ہونگے اور پچانوے فی صد ایسے نوجوان نکلیں گے جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے ہوں گے۔تم خود ہی سوچ لو۔جس قوم کے صرف چار پانچ فیصدی قرآن کا ترجمہ جانتے ہوں اور پچانوے فیصد نہ جانتے ہوں کیا اس کی کامیابی کی کوئی صورت بھی ہو سکتی ہے۔ہم اپنی قوت واہمہ کو کتنا ہی وسیع کر لیں اور ہم اس و ہم کو شک بلکہ خیال فاسدہ کی حد تک لے جائیں تب بھی جس قوم کے پچانوے فیصدی افراد قرآن نہ جانتے ہوں اور صرف پانچ فیصد قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہوں اس کی ترقی اور کامیابی کی کوئی صورت انسانی و ہمہ اور خیال میں بھی نہیں آسکتی۔میں نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ جب تک قرآن کریم سے ہر چھوٹے بڑے کو واقف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہمیں اپنی کامیابی کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے اور اگر ہم رکھتے ہیں تو ہم ایک ایسا نقطہ نگاہ اپنے سامنے رکھتے ہیں جو عظمندوں کا نہیں بلکہ مجنونوں اور پاگلوں کا ہوتا ہے۔آج میں اس امر کی طرف جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں اور نوجوانوں کو خصوصیت کے ساتھ یہ نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی جلد سے جلد کوشش کرنی چاہئے۔میں نے اعلان کیا تھا کہ جو انجمنیں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے کی خواہش کریں گی اور وہ اپنی اس خواہش سے ہمیں اطلاع دیں گی ان کو مرکز کی طرف سے قرآن کریم پڑھانے والے بھجوائے جائیں گے۔مگر تجربہ سے یہ طریق کامیاب ثابت نہیں ہوا۔جماعت کے ایک ایک فرد کو قرآن کریم کا ترجمہ آنا چاہئے اس لئے اب میں یہ ہدایت دیتا ہوں کہ ہر سال مرکز کی طرف سے باہر سے آنے والے خدام کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے کا انتظام کیا جائے اور ہر جماعت کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنا ایک ایک نمائندہ یہاں تعلیم حاصل