مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 371
371 نظام کو جاری کرنے کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اگر جماعت کے چند بچے اس امر کی اہمیت کو سمجھ کر اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ان چند نوجوان چند بوڑھوں اور چند بچوں کی وجہ سے اس نظام کے وسیع اثرات ظاہر نہیں ہو سکتے اور نہ اس کے نتیجے میں ساری دنیا میں بیداری پیدا ہو سکتی ہے۔تنظیم کی اہمیت اور افادیت ساری دنیا میں اس تحریک کو قائم کرنے ساری دنیا کو بیدار کرنے اور ساری دنیا کو اس نظام کے اندر لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اپنے آپ کو اس قدر منظم کر لیں کہ وہ یقینی اور حتمی طور پر کہہ سکیں کہ ہم نے اپنی اندرونی تنظیم کا کام اس کے تمام پہلوؤں کے لحاظ سے پوری خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کر لیا جائے۔اسی طرح بچے اپنے آپ کو خدام الاحمدیہ کی مدد سے اس قدر منظم کرلیں کہ تنظیم کا کوئی پہلو نا قص نہ رہے اور ان کا اندرونی نظام ہر جہت سے مکمل ہو جائے۔یہی حال انصار اللہ کا ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس قدر منتظم کر لیں، اس طرح ایک نظام میں اپنے آپ کو منسلک کر لیں کہ وہ مسرت کے ساتھ یہ اعلان کر سکیں کہ ہم نے اپنی اندرونی تنظیم پورے طور پر مکمل کرلی ہے۔اب ہم میں اس تنظیم کے لحاظ سے کسی قسم کی خامی اور نقص باقی نہیں رہا۔جب خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ تینوں اپنے آپ کو اس رنگ میں منظم کرلیں گے اور اپنی اندرونی خامیوں کو کلیتہ دور کر دیں گے تب وہ اس قابل ہو سکیں گے کہ دوسروں کی اصلاح کریں اور تب دنیا مجبور ہو گی کہ ان کی باتوں کو سنیں اور ان پر غور کرے۔ذہین بچوں پر نیک باتوں کا نمایاں اثر ہوتا ہے میں نے دیکھا ہے بعض بچے چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں لیکن چونکہ وہ ذہین ہوتے ہیں اور دین کی باتوں کو سمجھتے ہیں اس لئے ان کا طبعی طور پر دوسرے بچوں پر نمایاں اثر ہوتا ہے اور وہ بھی اس رنگ کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیو نکہ وہ رنگ ان کو خوبصورت دکھائی دیتا ہے اور وہ باتیں ان کو جاذبیت رکھنے والی معلوم ہوتی ہیں۔ہمارا ایک عزیز بچہ ہے۔تین چار سال اس کی عمر ہے مگر زمین اور ہوشیار ہے۔وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ باہر گیا ہوا ہے۔جس گھر میں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں اس گھر کے بچوں پر اتنا اثر ہوا کہ انہی میں سے ایک لڑکے نے مجھے خط لکھا کہ آپ اپنے فلاں بچہ کو اجازت دیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر ایک دفعہ میوزیکل کانسرٹ دیکھ لے مگر وہ مانا نہیں اس نے کہا ہے کہ ہم ایسی چیز میں نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ہمیں ایسی چیزیں دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔اس نے یہ بھی لکھا کہ مجھے اس کی باتیں سن کر احمدیت کے متعلق رغبت پیدا ہو گئی ہے وہ بھی ایک چھوٹا بچہ ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ