مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 361

361 ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نبی آتا ہے اور اس کی امت کے لوگ اس کے ساتھ ملتے ہیں۔اس کے حسن کو اپنے دلوں پر نقش کر لیتے ہیں اور اس کی تعلیمات کو سکھتے ہیں اور جس طرح جب ایک انسان فوت ہو تا ہے تو اس کا حسن اس کے بعد بھی اس کی اولاد میں موجود ہوتا ہے ، نبی اور مامور کے بعد اس کے متبعین میں اس کا حسن منتقل ہو جاتا ہے جس طرح ایک انسان کی وفات کے بعد اس کی جسمانیت اس کی اولاد میں منتقل ہو جاتی ہے اسی طرح نبی اور مامور کی وفات کے بعد اس کا نور اور اس کی روحانیت اس کے متبعین میں منتقل ہو جاتی ہے۔اگر اس کی اولاد ایسی نہیں جو ر جو لیت سے محروم ہو تو وہ پھر آگے ایسے لوگ جنتی ہے جن میں اس کا اثر موجود ہوتا ہے اور پھر وہ آگے اس سلسلہ کو چلاتے جاتے ہیں حتی کہ وہ زمانہ آجاتا ہے جب روحانی نسل روحانی طور پر بانجھ اور نامرد پیدا ہوتی ہے اور نسل بید ہو جاتی ہے مگر چونکہ جسمانی نسل نہیں ہوتی اور سلسلہ تناسل جاری ہو تا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ایک نیا رو حانی آدم پیدا کر تا ہے۔مگر سوال یہ ہے کیا اس نئے آدم کے پیدا کئے جانے سے پچھلی امت کی ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ہر گز نہیں۔وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ نیا آدم جو پیدا ہو گیا اس لئے ہماری زمہ داری ختم ہو گئی۔خدا تعالیٰ ان سے کے گا کہ اگر میں نے نیا آدم پیدا کیا تو اس لئے کہ تمہاری وجہ سے روحانی سلسلہ بند ہو گیا اور اس سلسلہ کو بند کرنے کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے آجاتے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی کے بچہ کو مار دے اور کہے کہ کیا ہوا مار دیا۔ماں باپ ابھی زندہ ہیں اور بچہ پیدا کر سکتے ہیں تو کیا اس کے ماں باپ اس کو چھوڑ دیں گے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو یہ جواب دے گا کہ میں نے نیا آدم تو اس مجبوری کی وجہ سے پیدا کیا کہ پہلا سلسلہ تم نے بند کر دیا۔اگر تم اسے جاری رکھتے تو نیا آدم پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔تو روحانی نسل کا جاری رکھنا بلکہ آئندہ نسل کو پہلی سے بہتر بنانے کی کوشش کرنا نہایت ضروری ہے۔انگریزوں کی خواہ کوئی کتنی برائی کرے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ لوگ اپنے ملک میں بھی اور یہاں بھی ہمیشہ بیج کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ہمیشہ کو شش کرتے رہتے ہیں کہ پیج پہلے سے اچھے ہوں۔ہندوستان میں پہلے گندم بہت ادنیٰ قسم کی ہوتی تھی۔دانے بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے اور جھاڑ بھی بہت کم ہو تا تھا۔بے شک ایک قسم کی گندم یہاں ہوتی تھی جسے وڈ اٹک کہتے تھے اس کا دانہ بے شک موٹا ہو تا تھا۔مگر اسے ہونا اور پرورش کرنا بہت مشکل تھا۔عام طور پر جو گندم یہاں ہوتی تھی۔اس کے وانے چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے مگر انگریزوں نے بیجوں کو ترقی دے دے کر کئی قسم کی اعلیٰ درجہ کی گندم پیدا کر دی ہے۔کوئی ۵۱۸ ہے۔کوئی ۵۹۱ وغیرہ وغیرہ ہے اور اس طرح بڑھاتے بڑھاتے کئی قسمیں گندم کی پیدا کر لی ہیں جن کا دانہ بھی اچھا ہو تا ہے اور جھاڑ بھی زیادہ ہوتا ہے۔اسی طرح کپاس کا حال ہے۔اس کے بیج کو ترقی دے کر ایسی اقسام پیدا کر لی ہیں کہ دیسی روئی سے بہت اعلیٰ روئی پیدا ہونے لگی ہے جس کے ریشے بھی لمبے ہوتے ہیں۔قیمت زیادہ ہوتی ہے۔دیسی روئی اگر بارہ روپے من بکتی ہے تو وہ بائیس روپے من بکتی ہے۔جھاڑ بھی زیادہ ہو تا