مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 355
355 وہ آزاد نہیں ہو سکتا۔دینی خدمت کے لئے قبول نہ کئے جانے کی صورت میں اگر وہ مثلاً ڈاکٹری کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ ڈاکٹری کے کام کو کم سے کم وقت میں محدود کرے اور باقی وقت دین کی خدمت میں لگائے اگر کوئی انجینئر ہے تو چاہیے کہ کم سے کم وقت انجینئر نگ کے کام پر صرف کرے اور زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت پر۔اگر وہ کوئی ملازمت اختیار کرتا ہے تو چاہئے کہ ملازمت کے لئے جتن وقت دینا اس کے لئے لازمی ہے اس کے سواباقی وقت کا کثیر حصہ دینی خدمت میں گزارے اور پھر اس تاک میں رہے کہ کب دینی خدمت کے لئے آگے بڑھنے کا مطالبہ ہو تا ہے اور جب بھی ایسی آواز اس کے کان میں پڑے اسے چاہئیے کہ پھر اپنے آپ کو پیش کرے اور کہے کہ میں واقف ہوں پہلے فلاں وقت مجھے نہیں لیا گیا تھا اب میں پھر پیش کرتا ہوں اور خواہ وہ ساری عمر بھی نہ لیا جائے۔مگر اس کا یہ فرض ہے کہ ہمیشہ اپنے آپ کو واقف ہی سمجھے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ وعدہ خلاف اور غدار سمجھا جائے گا۔پس جس نے کسی وقت بھی اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا وہ اس سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔میرا یا کسی اور کا اسے کسی وقت قبول نہ کرنا اسے وقف کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں کر سکتا۔کیونکہ وقف تو ایک عہد ہے خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان اور کوئی قبول کرے یا نہ کرے یہ عہد ہر گز نہیں ٹوٹ سکتا باسہ اگر صرف دل میں ہی وقف کا اردہ کیا جائے چاہے اظہار نہ ہو تو بھی نہیں ٹوٹ سکتا۔پس وقف کے قبول کئے جانے یا نہ کئے جانے کا کوئی سوال نہیں۔جو شخص وقف کرتا ہے اس کا وقف ہمیشہ قائم رہتا ہے اور خدمت دین کی ایک صورت کے لئے اسے قبول نہ کئے جانے کے یہ معنے نہیں کہ وہ دین کی کسی اور رنگ میں خدمت کرنے کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہو گیا۔اگر ایک شخص کی آنکھیں خراب ہیں اور اسے فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملک کی خدمت کے فرض سے آزاد ہو گیا۔کیونکہ اگر وہ با قاعدہ لڑنے والی فوج میں شامل نہیں کیا گیا تو کئی اور صورتوں میں وہ خدمت ملک کر سکتا ہے۔کلرک بن سکتا ہے 'زخمیوں کے لئے پٹیاں بنانے کا کام کر سکتا ہے ایسی تحریکیں کر سکتا ہے جن سے فوجی بھرتی میں امداد مل سکے۔اور نہیں تو عوام میں بے چینی پیدا کرنے والی غلط افواہوں کی تردید کر کے ایک اہم خدمت سر انجام دے سکتا ہے۔۔غرض جو شخص کسی خاص وقف کی تحریک میں نہ لیا جانے کی صورت میں یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اب وقف کی ذمہ واری سے وہ آزاد ہو گیا ہے وہ ایسا ہی احمق ہے جیساوہ والنٹیر احمق ہے جو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے گیا اور اسے فوج کے قابل نہ سمجھ کر آزاد کر دیا اور اس نے ملک کی خدمت کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو آزاد سمجھ لیا۔اگر وہ کامل مومن ہے تو صرف دل میں ارادہ کرنے سے اور اگر ادنی مومن ہے تو اپنے آپ کو پیش کر دینے کے بعد وہ