مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 302

302۔قلب پر نازل نہیں ہوتے۔الا ماشاء اللہ کسی پر احسان کر کے خدا تعالیٰ کوئی نور نازل کر دے تو اور بات ہے۔پس خدام الاحمدیہ کے افسروں کو چاہئے کہ وہ خصوصیت سے مختلف بیوت الذکر اور مختلف حلقوں میں اس قسم کے وعظ کرائیں تاکہ نوجوانوں کے دلوں میں عبادت اور ذکر الہی کا شوق پیدا ہو۔اب تک خدام الاحمدیہ کی طرف سے اس قسم کی بہت کم کوشش کی گئی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اول تو نوجوان بیت الذکر میں کم آتے ہیں اور جو آتے ہیں وہ اس تاڑ رہتے ہیں کہ امام کب آتا ہے تاکہ وہ اسی وقت بیت الذکر میں آئیں جب امام آئے۔اس سے پہلے انہیں بیت میں آکر بیٹھنا نہ پڑے۔گویا بیوت الذکر ان کے نزدیک ایسی چیز ہوتی ہے جیسے انگاروں پر چلنا۔جس طرح انگاروں پر چلنے والا جلدی جلدی چلتا ہے کہ کہیں میرے پیر نہ جل جائیں اسی طرح وہ بھی چاہتے ہیں کہ بیت الذکر میں تھوڑے سے تھوڑا عرصہ ٹھر میں اور جلد سے جلد چلے جائیں۔پھر بجائے اس کے کہ وہ بیت الذکر میں خاموشی سے بیٹھیں اور اللہ بیوت الذکر سے تعلق اور ذکر الہی تعالی کا ذکر کریں ، دو دو مل کر باتیں کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ بیوت الذکر اس لئے نہیں ہو تیں کہ ان میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کی جائیں۔بیت الذکر میں یا تو دینی باتیں ہونی چاہئیں اور یا پھر انسان کو ذکر الہی میں مشغول رہنا چاہئے۔جب تک نوجوانوں میں یہ روح پیدا نہیں ہوتی میں نہیں سمجھ سکتا ان میں خشیت اللہ کس طرح پیدا ہو سکتی ہے اور جب تک کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پیدا نہیں ہوتی ، ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ایک سچا احمدی ہے۔ہاں اگر خدا کی محبت پیدا ہو جائے تو رفته رفتہ باقی تمام خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اگر کسی کے دل میں خدا کی محبت نہ ہو تو اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ریت میں کیلا گاڑا ہوا ہو۔بظاہر وہ گڑا ہوا نظر آتا ہے لیکن اگر ذرا بھی اسے ٹھو کر لگائی جائے تو وہ فورزا کھر جاتا ہے لیکن جس دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کسی مضبوط چٹان میں کوئی کیلا گاڑ دیا جائے۔ایسے کیلے کو اگر ہتھوڑے بھی مارو تو وہ ملنے کا نام نہیں لے گا۔پس اصل چیز ذکر الہی خدا تعالیٰ کی محبت اور بیوت الذکر کے ساتھ تعلق ہے۔خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں میں یہ باتیں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ان پر ذکر الہی کی اہمیت واضح کریں۔ان کے دلوں میں اللہ تعالٰی کی محبت پیدا کریں اور انہیں بیوت الذکر میں زیادہ وقت صرف کرنے کی عادت ڈالیں۔میں نے دیکھا ہے خدام الاحمدیہ نے نماز با جماعت میں نوجوانوں کی سستی کو دور کرنے کی کوشش کی اور قادیان میں اپنی اس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب ہو گئے۔اب اس سبق کو وہ نوجوانوں کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں کہ وہ بیوت الذکر کے ساتھ تعلق رکھیں۔ذکر الہی کی عادت ڈالیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔اس کے بعد انہیں خود بخود نظر آجائے گا کہ نوجوانوں کے اخلاق کی بہت کچھ اصلاح ہو گئی ہے۔اب تو بعض دفعہ انہیں نوجوانوں میں بلا وجہ جوش نظر آجاتا ہے۔بعض دفعہ ان میں پاگل پن کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ وہ گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔اسی طرح وہ بعض دفعہ اور ابتلاؤں میں پڑ جاتے ہیں لیکن اگر وہ ان امور کی طرف توجہ