مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 297
297 خدام الاحمديه خدام الاحمدیہ کے قوانین قشر ہیں۔خدام کو ان کی روح مد نظر رکھنی چاہئے کے لئے جی جو قوانین مقرر کئے گئے ہیں وہ بھی در حقیقت قشر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔چنانچہ یہ جو کہا گیا ہے کہ خدام الاحمد یہ روزانہ کچھ وقت ہاتھ سے کام کیا کریں۔سڑکوں کو درست کیا کریں۔گڑھوں کو پر کیا کریں اور اسی طرح خدمت خلق کے اور کام سرانجام دیا کریں۔ان کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اندربنی نوع انسان کی ہمدردی کا سچا جذبہ پیدا ہو اور جب لوگوں پر کوئی عام مصیبت کا وقت آئے تو وہ اس مصیبت کو دور کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور کسی قسم کا کام کرنے میں عار محسوس نہ کریں لیکن اگر ان کاموں کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔اگر وہ اپنے سیکرٹری یا کسی اور افسر کے بلانے پر ہاتھ سے کام کرنے کے لئے تو تیار ہو جاتے ہیں لیکن جب ان کا ہمسایہ کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اس کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے۔تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ چھلکے کو پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں، حقیقت کو اخذ کرنے کی انہوں نے کوشش نہیں کی۔ان کی مثال بالکل ان لوگوں کی سی ہے جو کہتے تھے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر کو قرآن میں دیکھ لیا ہے۔ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر کو حدیثوں میں دیکھ لیا ہے اور ہم آپ کو خوب پہچانتے ہیں مگر جب انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مسیح موعود کی شکل میں دیکھا تو آپ کا انکار کر دیا اور نہ صرف انکار کیا بلکہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔اگر ایسے لوگ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ہوتے تو یقیناً آپ کا بھی انکار کرتے اور آپ پر بھی کفر کا فتویٰ لگا دیتے۔میں دیکھتا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ ۱۹۴۲ء میں خدمت خلق کا موقعہ کھو دینے کا قلق میں خدام الاحمدیہ کے امتحان کا ایک موقعہ پیدا ہوا تھا جس میں اگر وہ چاہتے تو کوشش کر کے کامیابی حاصل کر سکتے تھے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس امتحان میں خدام الاحمدیہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا بڑے بڑے سیلاب آئے ہیں اور ان سیلابوں سے بڑی تباہی ہوئی ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ جہاں تک مجھے علم ہے خدام الاحمدیہ نے اس موقعہ پر کوئی کام نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو مجھے اس کا علم نہیں ہوا۔یاد رکھو وہ سپاہی ملک کے لئے کبھی مفید نہیں ہو سکتا جو پریڈ تو کرتا رہے مگر لڑائی کے وقت گھر میں بیٹھ رہے۔پریڈ تو لڑائی کے لئے ہی کی جاتی ہے۔اگر کسی نے لڑائی میں شامل نہیں ہو نا تو وہ پریڈ پر اپنا وقت کیوں ضائع کرتا ہے۔اس دفعہ ضلع لاہور میں ، ضلع شیخوپورہ میں اور ضلع فیروزپور میں سیلابوں سے بڑی تباہیاں آئی ہیں اور ہر جگہ مجالس خدام الاحمدیہ موجود تھیں مگر میرے پاس جو رپورٹیں آئی ہیں ان میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں کہ اس موقعہ پر خدام الاحمدیہ نے لوگوں کی کیا خدمت کی ہے اور اس مصیبت کے وقت انہوں نے کس کس رنگ میں ہمدردی ظاہر کی۔حالانکہ اس موقعہ پر بعض ہندوؤں نے ، بعض سکھوں نے اور بعض اور اقوام کے لوگوں نے بڑی خدمت کی ہے۔یہاں تک کہ گورنمنٹ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ انہوں