مشعل راہ (جلد اوّل) — Page iii
دیباچہ مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام اس مبارک ہستی کے ذریعہ ہوا جس کے بارے میں اللہ تعالی نے خود فرمایا تھا کہ: ''وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔۔او علومِ ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا، جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا ، ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا، تو میں اس سے برکت پائیں گی ،، حضرت مصلح موعود۔۔۔صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی نے عالمگیر غلبہ اسلام کے لئے جن عظیم الشان تحریکوں کی بنیاد رکھی ان میں سے ایک اہم اور دور رس نتائج کی حامل عظیم الشان تحریک مجلس خدام الاحمدیہ ہے، جس کا قیام 1938 ء کو عمل میں آیا۔آپ نے اس مجلس کی بنیا در کھتے ہوئے فرمایا تھا: فرمایا: د میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے (دشمن کے ) ان حملوں کا کیا جواب دیا جائے گا۔ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے اور اسی کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ ہے اور در حقیقت یہ روحانی ٹریننگ اور روحانی تعلیم و تربیت کا زمانہ ہے اور ٹرینگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے، لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو ر ہا مگر جب قوم تربیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔۔۔،، تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحه: ۴۴۵) ” میری غرض اس مجلس کے قیام سے یہ ہے کہ جو تعلیم ہمارے دلوں میں دفن ہے اسے ہوا نہ لگ جائے بلکہ وہ اسی طرح نسلاً بعد نسل دلوں میں دفن ہوتی چلی جائے آج ہمارے دلوں میں دفن ہے تو کل وہ ہماری اولادوں کے دلوں میں دفن ہو اور پرسوں ان کی اولادوں کے دلوں میں یہاں تک کہ یہ تعلیم ہم سے وابستہ ہو جائے ہمارے دلوں کے ساتھ چمٹ جائے اور ایسی صورت اختیار کرے جو دنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو۔“ (الفضل ۱۷ فروری ۱۹۳۹ء) ایک اور موقعہ پر فرمایا: