مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 287
287 دو تو وہ اس سے فائدہ اٹھالے گا۔پس تم بھی اگر صرف اسلام کے نام سے کام لو تو تم دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے لیکن اگر تم اسلام کے مفہوم کے مطابق تھوڑا سا عمل بھی کرو تو بہت کچھ فائدہ حاصل کر سکتے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہو۔کوئی شخص سارا دن اپنے آپ کو مسلم مسلم کشتار ہے تو اللہ تعالی کا قرب اسے حاصل نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہ خدا تعالی کی خاطر ایک منٹ بھی ذکر الہی کے لئے بیٹھ جا نا یا خدا تعالی کی صفات پر غور کرتا ہے تو ایسا انسان خدا تعالی کا مقرب ہو جائے گا۔گو وہ روزانہ صرف ایک منٹ ہی ذکر الہی کرے مگر سارا دن اپنے آپ کو مسلم مسلم کہنے سے کچھ نہیں بن سکتا۔ایک شخص اگر رات دن اپنے آپ کو مسلم مسلم کہتا رہتا اور اپنی مسلمانی کے نعرے لگاتا رہتا ہے تو اس کے ان نعروں اور اپنے آپ کو مسلم قرار دینے سے اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر وہ محمد میں لا دیوی کی کسی ایک ہی حدیث پر کسی دن عمل کر لیتا ہے تو وہ اتناہی محمد مٹی ایم کے قریب ہو جاتا ہے۔ایک شخص اپنے ہمسایوں کو دکھ دیتا ہے۔انہیں تکلیف میں مبتلا رکھتا ہے۔ان کے حقوق کا کوئی خیال نہیں رکھتا لیکن اپنے آپ کو مسلم مسلم کہتا رہتا ہے، تو اس کے اس قول سے لوگ خوش نہیں ہوں گے۔وہ کتنا ہی کہتا رہے کہ میں اپنے ہمسایوں کا خیر خواہ ہوں۔ان سے محبت رکھتا ہوں۔ان کی تکلیفوں پر بے چین ہو جاتا ہوں اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھتا ہوں۔لوگ اس کی ان باتوں پر کبھی خوش نہیں ہو سکتے۔لیکن اگر وہ ایک وقت چاہے اس کے گھر میں دال ہی پکی ہوئی ہو۔تھوڑی سی دال اپنے ہمسایہ کے گھر تحفہ کے طور پر بھیج دیتا ہے تو سب اس سے خوش ہو جائیں گے اور سمجھیں گے کہ اس نے قول سے نہیں اپنے عمل سے اپنی محبت اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔یہی حال ایمان کا ہوتا ہے۔انسان اپنے ایمان کا دن رات ڈھنڈورا پیٹتا رہے تو اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہ اپنے ایمان کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے تھوڑا سا خد اتعالیٰ کی توحید پر یقین لے آتا ہے۔تھوڑا سا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر یقین لے آتا ہے۔تھوڑا سا قرآن کریم کی صداقت پر یقین لے آتا ہے تو بہت ممکن ہے یہ یقین اور ایمان اسے بہت دور تک لے جائے۔ممکن ہے وہ تھوڑا سائقین جو اس کے دل میں خدا تعالی کی وحدانیت پر پیدا ہوا ہے اسے ایک دن بہت بڑا موحد بنا دے۔ممکن ہے کہ وہ تھوڑا سا یقین جو اس کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر پیدا ہوا ہے بیج کی طرح پھیلنا شروع کر دے اور کسی وقت کھیت بن کر اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے مرتبہ تک پہنچا دے۔ممکن ہے کہ وہ تھوڑا سا یقین جو اس کے دل میں قرآن کریم کی صداقت پر پیدا ہوا ہے کسی وقت کھیت بن کر پھیل جائے اور ایک دن ایسا آئے جب کہ وہ قرآن کریم کا عارف بن جائے۔لیکن اگر اس کے دل میں کوئی ایمان نہیں اور وہ مونہہ سے سارا