مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 268

268 بھی دریافت کرو کہ سینما کیا ہو تا ہے تو وہ ضرور اس کی کچھ نہ کچھ تشریح کر دے گا۔لیکن اگر تم اس سے پوچھو کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کی کیا تشریح ہے یا اسلام کو تم نے کیوں مانا تو وہ ہنس کر کہہ دے گا کہ یہ باتیں مولویوں سے دریافت کریں۔آخر یہ فرق کیوں ہے اور کیوں وہ سینما کی تشریح تو کسی قدر کر سکتا ہے مگر یہ نہیں بتا سکتا ہے کہ اس نے اسلام کو کیوں قبول کیا اسی لئے کہ وہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کو ہر وقت رہتا رہتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ مجھے اس کے سمجھنے کی ضرورت نہیں۔مگر سینما کا لفظ وہ کبھی کبھی سنتا ہے اور اس لئے لوگوں سے پوچھ لیتا ہے کہ یہ سینما کیا چیز ہے۔مگر لا الہ الا اللہ کو چونکہ اس نے بچپن سے سنا ہو تا ہے اس لئے وہ خیال کر لیتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق کسی سے کچھ پوچھنے کی ضروت نہیں۔تم میں سے کسی کے بچہ نے اگر ریل کو نہیں دیکھا اور کسی دن تم ریل دکھانے کے لئے لے جاؤ تو وہ جاتے ہی تم پر سوالات کی بوچھاڑ کر دے گا۔اگر پنجابی ہو گا تو اپنے باپ سے کہے گا کہ باپو ایہہ کس طرح چلدی اے۔کبھی کہے گا کیا یہ دھوئیں کے ساتھ چلتی ہے اور کبھی یہی خیال کرنے لگ جائے گا کہ اس کے اندر کوئی جن بیٹھا ہے جو اسے حرکت میں لاتا ہے۔غرض وہ تھوڑے سے وقت میں تم سے بیسیوں سوالات کر دے گا۔لیکن کیا اس نے کبھی تم سے یہ پوچھا کہ سورج کیوں بنا ہے ؟ اس کی روشنی کہاں سے آتی ہے ؟ اس کے اندر گرمی کس طرح پیدا ہوتی ہے اور اس کی روشنی اور گرمی ختم کیوں نہیں ہو جاتی؟ وہ کبھی تم سے یہ سوالات نہیں کرے گا۔لیکن انجن کے متعلق تم سے بیسیوں سوالات کر دے گا۔اس لئے کہ انجن اس نے ایک نئی چیز کے طور پر دیکھا ہے اور سورج کو اپنی پیدائش سے ہی وہ دیکھتا چلا آیا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔پس جتنی زیادہ کوئی چیز کسی انسان کے سامنے آتی ہے اتنا ہی وہ اس کی حقیقت اور ماہیت سے ناواقف ہوتا ہے۔یہ ایک قانون ہے جو فطرت انسانی میں داخل ہے کہ جو چیز کبھی کبھار سامنے آئے گی اس کے متعلق وہ سوالات کی بوچھاڑ کر دے گا اور جو بار بار سامنے آتی رہے گی۔اس کے متعلق وہ کبھی کوئی سوال نہیں کرے گا کیونکہ بار بار سامنے آنے سے دریافت کرنے کی حس ہی ماری جاتی ہے اور انسان یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے اس کا علم ہے۔حالانکہ اس علم نہیں ہو تا۔چنانچہ تم کسی سے پوچھ کر دیکھ لو کہ سچ کیوں بولنا چاہئے۔وہ کبھی تم کو اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکے گا۔تم اپنے محلہ میں ہی کسی دن لوگوں سے دریافت کر کے معلوم کر سکتے ہو کہ آیا وہ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں۔جب تم کسی سے پوچھو گے کہ سچ بولنا چاہئے یا نہیں تو وہ کہے گا کہ ضرور سچ بولنا چاہئے۔مگر جب پوچھا جائے کہ سچ کیوں بو نا چاہئے تو وہ ہنس کر کہہ دے گا کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بیچ کا لفظ بار بار سن کر لوگوں کے دنوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ یہ چیز کسی دلیل کی محتاج نہیں۔حالانکہ یہ بھی ویسی ہی دنیل کی محتاج ہے جیسے اور باتیں دلیل کی محتاج ہیں۔تو لوگ سچ کی تعریف سے بھی واقف نہیں ہوتے۔وہ بیچ کی ضرورت سے بھی واقف نہیں ہوتے۔وہ بیچ کے فوائد سے بھی واقف نہیں ہوتے وہ بچ کو چھوڑنے اور جھوٹ بولنے کے نقصانات سے بھی واقف نہیں ہوتے۔مگر جب ان سے بچ کے بارے میں کچھ پوچھا جائے تو وہ کہہ دیں گے کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی