مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 262
262 کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو توڑ کر دل سے خدا کا ہو جائے۔مگر اس غرض کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالٰی نے ایک ظاہری حج بھی رکھ دیا اور صاحب استطاعت لوگوں پر یہ فرض قرار دے دیا کہ وہ گھر بار چھوڑ کر مکہ جائیں۔سب مسلمان جمع ہوں اور اس طرح اپنے وطن اور عزیز و اقربا کی قربانیوں کا سبق سیکھیں۔بے شک حقیقی حج یہی ہے کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو منقطع کر کے خدا کا ہو جائے مگر اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک ظاہری جسم بھی رکھ دیا۔یہی حال صدقہ و خیرات کا ہے۔حقیقی طہارت اور پاکیزگی تو انسان کے خیالات کی ہے۔لیکن اس کے ساتھ خدا تعالٰی نے مال کی پاکیزگی بھی ضروری قرار دے دی کیونکہ اس کے بغیر اسے جسم حاصل نہیں ہو سکتا۔اگر خالی لوگوں کی خیر خواہی کا حکم دے دیا جاتا تو لوگ اس حکم کو بھول جاتے مگر اب چونکہ خدا تعالیٰ نے اس خیر خواہی کا یہ نشان رکھ دیا ہے کہ انسان غریبوں کو صدقہ و خیرات دے اس لئے جب بھی وہ روپیہ دینے لگتا ہے اسے یہ حکم یاد آجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اصل حکم یہ ہے کہ میں سب کا خیر خواہ بنوں اور حتی المقدور انہیں فائدہ پہنچاؤں۔ور نہ انسان ان سے تو محبت کیا ہی کرتا ہے جن سے اس کے دوستانہ تعلقات ہوں۔اسلام یہ ایک زائد حکم دیتا ہے در کہ انسان ان سے بھی حسن سلوک کرے جن سے اسے کوئی فائدہ نہ پہنچا ہو بلکہ جن سے فائدہ پہنچنے کی کوئی امید بھی نہ ہو۔اور یہ نیکی قائم نہیں رہ سکتی تھی جب تک وہ صدقہ و خیرات نہ دے اور جب تک وہ عملاً غرباء اور مساکین سے حسن سلوک نہ کرے۔پس غریبوں کی محبت کا خیال اور ان سے حسن سلوک کرنے کی تعلیم جو ہے اسے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کا حکم دے دیا۔اب جو شخص سال بھر میں ایک دفعہ زکوۃ دیتا ہے یا و قانو قا صدقہ و خیرات دیتا رہتا ہے اس کے دل میں تو غریبوں کی محبت رہ سکتی ہے۔مگر جو ایسا نہیں کرتا اس کا دل بھی غریبوں کی محبت سے خالی ہو جاتا ہے۔اسی طرح خدا نے روحانیت کے جو جسم بنائے ہیں ان میں سے ایک جسم اخلاق روحانیت کا جسم ہیں اخلاق ہیں۔اخلاق روحانیت کا نام نہیں اور نہ روحانیت اخلاق کا نام ہے۔مگر اخلاق روحانیت کے لئے بمنزلہ جسم ضرور ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات انسان کو نظر نہیں آتی۔صرف اس کا حسن اس کی صفات پر غور کر کے نظر آسکتا ہے۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات مخفی اور وراء الوراء ہے۔اس لئے اس نے اپنی محبت بندوں کی محبت اور ان کے ساتھ نیک تعلقات رکھنے سے وابستہ کر دی ہے۔جب ان میں سے ایک چیز کو تم حاصل کر لو گے تو لا زماد دوسری چیز بھی تمہیں حاصل ہو جائے گی۔گویا یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔جسے براہ راست خدا تعالیٰ کی محبت حاصل ہو گی وہ خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا ہونے کے بعد بندوں کی محبت سے اپنے دل کو لبریز پائے گا۔جیسے رسول کریم ملی الا اللہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنی فتدلی۔یعنی ہمارا یہ رسول پہلے خدا کے قریب ہوا اور پھر نیچے اترا۔گویا خدا کی محبت محمد سلیم کو پہلے حاصل ہوئی اور پھر اس کے ساتھ ہی بنی نوع انسان کی محبت آپ کے دل میں ایسی پیدا ہوئی کہ آپ اس جذبہ کو برداشت نہ کر سکے اور ان کی ہدایت کی طرف متوجہ ہو گئے۔مگر کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے بنی نوع انسان کی محبت