مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 252

252 سکتے تھے ، آپ کے مقابلہ میں آیا اور کئی گھنٹے تک آپ کی اور اس یہودی پہلوان کی لڑائی ہوتی رہی۔آخر کئی گھنٹے کی لڑائی کے بعد آپ نے اس یہودی کو گرا لیا اور اس کے سینہ پر بیٹھ گئے اور ارادہ کیا کہ خنجر سے اس کی گردن کاٹ دیں کہ اچانک اس یہودی نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فورا اسے چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہو گئے۔وہ یہودی سخت حیران ہوا اور کہنے لگا۔یہ عجیب بات ہے کہ کئی گھنٹے کی کشتی کے بعد آپ نے مجھے گرایا اور اب یکدم مجھے چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔یہ آپ نے کیسی بیوقوفی کی ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا۔میں نے بے وقوفی نہیں کی بلکہ جب میں نے تمہیں گرایا اور تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو یکدم میرے دل میں غصہ پیدا ہوا کہ اس نے میرے منہ پر کیوں تھو کا ہے۔مگر ساتھ مجھے خیال آیا کہ اب تک تو میں جو کچھ کر رہا تھا خدا کے لئے کر رہا تھا۔اگر اس کے بعد میں نے لڑائی جاری رکھی تو تیرا خاتمہ میرے نفس کے غصہ کی وجہ سے ہو گا۔خدا کی رضا کے لئے نہیں ہو گا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت میں تجھے چھوڑ دوں۔جب غصہ جاتا رہے گا تو پھر خدا کے لئے میں تجھے گرالوں گا۔تو انہیں اپنے عمل کے پاکیزہ ہونے کا اس قدر احساس تھا کہ انہوں نے اس خطرہ کو تو برداشت کر لیا کہ دشمن سے دوبارہ مقابلہ ہو جائے مگر یہ مناسب نہ سمجھا کہ ان کے اعمال میں کسی قسم کی کمزوری پیدا ہو۔میں چاہتا ہوں کہ تمہارے اعمال بھی خدا کے لئے ہوں۔ان میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ان میں بزدلی کا کوئی شائبہ نہ ہو اور ان میں تقویٰ کے خلاف کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص اتنا مضبوط اتنا بها در اتنا دلیر اور اتنا جری ہو کہ جب تم کسی کو معاف کرو تو لوگ خود بخود یہ کہیں کہ تمہارا عفو خدا کے لئے ہے۔کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں۔ایسی قربانی دلوں کو موہ لیتی ہے اور ایسے انسان پر حملہ کرنا آسان نہیں ہو تا کیونکہ حملہ کرنے والے کا دل فتح ہو جاتا ہے۔مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ ہمیشہ یاد رہتا ہے۔میں چھوٹا تھا کہ میں نے اور دوسرے بچوں نے مل کر جہلم سے ایک کشتی منگوائی۔وہ کشتی نیلام ہوئی تھی اور ہمیں سستی مل گئی تھی۔یوں تو ویسی کشتی ان دنوں سو سوا سو روپیہ میں تیار ہوتی تھی مگر ہمیں صرف سترہ روپیہ میں مل گئی۔چھبیس روپے کرایہ لگا۔جب وہ یہاں آگئی تو جو خرید نے والے تھے ، ان میں سے کئی باہر چلے گئے اور آخری نگران میں ہی مقرر ہوا۔ہم نے اس کو ایک زنجیر سے باندھ کر ڈھاب کے کنارے رکھا ہوا تھا۔بعض دفعہ جب ہم وہاں موجود نہ ہوتے تو لڑکوں نے کشتی کو کھول کرلے جانا اور خوب کو دنا اور چھلانگیں لگانا اور چونکہ وہ بے احتیاطی سے استعمال کرتے تھے اس لئے کشتی کے تختے روز بروز ڈھیلے ہوتے چلے گئے۔میں نے اس کے انسداد کے لئے کچھ دوست مقرر کر دیے اور انہیں کہہ دیا کہ تم نگرانی رکھو اور پھر کسی دن اگر لڑکے کشتی کو کھول کر پانی میں لے جائیں تو مجھے اطلاع دو۔چنانچہ ایک دن قادیان کے بہت سے لڑکے اکٹھے ہو کر وہاں گئے ، انہوں نے کشتی کھولی اور خوب کو دنا پھاند نا شروع کر دیا۔اسی طرح پانی میں کوئی کشتی کو ادھر سے کھینچتا کوئی ادھر سے۔مجھے بھی اطلاع ہوئی۔میں غصے سے ہاتھ میں بید لئے دوڑتا ہوا وہاں