مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 232
232 تھیں کہ ان سٹھنیوں سے نکاح بابرکت ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب امرت سر تشریف لے گئے۔تو وہاں کے ایک رئیس محمد شریف صاحب کے ہاں ٹھرے جو کشمیری خاندان میں سے تھے۔لوگوں کو جب آپ کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کو خوب گالیاں دیں۔سیاپے کئے اور جہاں آپ ٹھہرے ہوئے تھے۔وہاں بھی آ آکر گالیاں دیتے رہے۔جب آپ وہاں سے تشریف لے آئے تو کسی مخالف نے اس احمدی سے کہا کہ دیکھا تمہارے مرزا کو کیسی گالیاں ملیں۔وہ کہنے لگا گالیوں کا کیا ہے۔آخر تم میں سے ہی اتنے آدمیوں نے بیعت بھی تو کی ہے۔رہا گالیاں ، سو ان کا کیا ہے ، سٹھنیاں تو تم نے دینی ہی تھیں۔کیونکہ مرزا صاحب تمہارے آدمی جو لے گئے۔تو جو قوم خدا تعالیٰ کی برکت کے نیچے ہوتی ہے۔وہ لوگوں کو کھینچے چلی جاتی ہے۔ہم دوسروں کے مقابلہ میں مال و دولت اور تعداد کے لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ اسلام کے میدان میں ہمارا اس قدر رعب ہے کہ چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے ایک کمیٹی اس غرض کے لئے بٹھائی گئی تھی کہ وہ یہ تحقیق کرے کہ افریقہ میں عیسائیت کی ترقی کیوں رک گئی ہے۔اس کمیٹی نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس میں سات مقامات پر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ احمدی اب لوگوں کو عیسائی نہیں ہونے دیتے۔بلکہ جو عیسائی ہو چکے ہیں ان کو بھی ہم سے چھین کر لے جاتے ہیں۔چرچ آف انگلینڈ کی سالانہ آمد ساٹھ کروڑ روپیہ تک ہے مگر ہمیں ہزاروں روپے بھی بمشکل میںہ آتے ہیں اور پھر ہمیں ان ممالک میں کام کرنا پڑتا ہے جہاں سینکڑوں سال سے عیسائی اپنی تبلیغ کرتے چلے آرب ہیں مگر باوجود اس کے سات جگہ انہوں نے تسلیم کیا کہ احمدیوں نے ان کی ترقی بند کر دی ہے۔تو کثرت سے اس ہے۔قسم کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔جہاں عیسائیوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ احمدیت نے عیسائیت کو بڑھنے سے روک دیا ہے۔حالانکہ عیسائی چالیس کروڑ کے قریب ہیں۔پھر انہیں حکومت حاصل ہے۔ان کے پاس روپیہ اور طاقت ہے مگر پھر بھی ہر جگہ انہیں شکست ہوتی چلی جاتی ہے۔ابھی سیرالیون میں میں نے اپنا ایک مبلغ بھجوایا تھا۔جس کی رپورٹیں الفضل میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان رپورٹوں میں بھی یہی لکھا ہوتا ہے کہ فلاں عیسائی رئیس مسلمان ہو گیا اور فلاں معزز عیسائی نے اسلام کا مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا۔پادریوں نے جب یہ حالت دیکھی تو وہ کمشنر کے پاس پہنچے اور پہلے تو یہ کہا یہ باغی ہیں اور پھر یہ شور مچایا کہ ان کی تقریروں سے ملک میں فتنہ پیدا ہوتا ہے۔انہیں روکا جائے۔اس پر ہمارے مبلغوں نے جب اصل حقیقت بتائی تو کمشنر نے کہا کہ میں اب اس علاقہ کا دورہ کروں گا اور پادریوں کو ڈانٹوں گا کہ وہ آپ لوگوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیوں کرتے ہیں۔اگر انہیں مقابلہ کا شوق ہے تو مذہبی رنگ میں مقابلہ کر لیں۔یہی حال یہاں ہے۔چنانچہ کوئی سال ایسا نہیں گذر تاجس میں چار پانچ ہزار کے قریب آدمی ان میں سے نکل کر ہم میں شامل نہ ہو جاتے ہوں۔لیکن ان میں سے شاذ و نادر کے طور پر ہی کوئی ادھر جاتا ہے اور اگر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اور کئی آدمی بھجوا دیتا ہے۔یہ فوقیت اور برتری جو ہماری جماعت کو حاصل ہے در حقیقت اس علم کی وجہ سے ہے جو جماعت کو دیا جاتا ہے اور جس کے بعد کوئی شخص دوسروں کے قریب میں نہیں آتا۔