مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 230

230 تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا ہر فرد ہماری جماعت کا ہر فرد ایمانی لحاظ سے مضبوط ہو ایمانی لحاظ سے مضبوط ہو ایمانی لحاظ سے اتنا مضبوط ہو جائے کہ کوئی شخص اسے ورغلانہ سکے۔اگر خدا تعالی کی ہستی کے متعلق اسے کوئی دھوکا دینا چاہے گا تو وہ فورا ہو شیار ہو جائے گا اور کہے گا مجھے خوب معلوم ہے کہ تم اعتراض کرنا چاہتے ہو۔تم بے شک اعتراض کرو۔مگر مجھے ان کے جوابات بھی معلوم ہیں اور ان جوابات کے مقابلہ میں تمہارے اعتراضات کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی صفات کے متعلق اگر کوئی اعتراض کرے گا تو وہ گھبرائے گا نہیں بلکہ ان کا جواب دینے کے لئے فور اختیار ہو جائے گا۔اسی طرح رسول کریم ملی دلیل اللہ کی رسالت اسلام کی صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت اور جماعت احمدیہ کی حقانیت کے متعلق جب بھی کوئی اس کے دل میں وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرے گا وہ عمدگی کے ساتھ اس کے وساوس کا ازالہ کر دے گا اور اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ادھر ادھر نہیں ہو گا۔یہ وہ مقام ہے جس پر اگر ہم اپنی جماعت کو کھڑا کہ میں تو ہم اس سے حقیقی نیکی کرنے والے ہوں گے۔یہ کوئی نیکی نہیں کہ ہم پچاس یا ساٹھ یا سو آدمیوں کو دوسروں سے چھپا کر خدا تعالیٰ کے پاس لے جائیں۔کیونکہ خدا چوروں کی طرح دوسروں کی نظر سے چھپ چھپ کر آنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔بلکہ وہ ان کو پسند کرتا ہے جو دھڑلے سے سب کے سامنے آئیں اور علی الاعلان آئیں۔اگر تم خدا کے پاس ایک بھی ایسا شخص لے کر حاضر ہوتے ہو جسے دنیا کا کوئی آدمی گمراہ نہیں کر سکتا تو خدا بہت زیادہ خوش ہو گا بہ نسبت اس کے کہ تم سو یا ہزار ایسے آدمی اس کے سامنے پیش کرو جنہیں دوسروں کے عقائد سے بے خبر رکھا گیا ہو اور جنہیں چوری چھپے اپنے مذہب میں شامل کر لیا گیا ہو۔خدا تعالٰی تعداد کی زیادتی کو دیکھ کر خوش نہیں ہو گا۔بلکہ وہ کہے گا کہ میں ان سو یا ہزار کو کیا کروں ان میں سے تو ہر شخص آسانی سے دوسروں کا شکار ہو سکتا اور گمراہی اور ضلالت کے گڑھے میں گر سکتا ہے۔پس یا د رکھو خدا کے حضور وہی مقبول ہوتے ہیں جن کا ایمان علی وجہ البصیرت ہو اور جو دو سرے کے ہر اعتراض کا جواب دینے کی طاقت رکھتے ہوں۔چنانچہ قرآن کریم میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ رسول کریم ملی ام سے فرماتا ہے قل هذه سيلي ادعوا إلى الله على بصيرة أنا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي - (يوسف : ١٠٩) كه اے محمد رسول اللہ ا ل ا ل لی تو لوگوں سے کہہ دے کہ میری سچائی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تم جو باتیں کہتے ہو اس کی تمہارے اپنے آدمی کوئی دلیل نہیں جانتے۔اس کے مقابلہ میں میں اور میرے پیرو ہر بات کی دلیل رکھتے ہیں اس لئے ہم بچے ہیں اور تم بچے نہیں۔یکا در پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کا جماعت کے افراد کا ایمان بصیرت پر قائم کریں ایمان بصیرت پر قائم کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہے اور زمہ واری سے بچنا نیکی نہیں ہوتی بلکہ ذمہ واری کو ادا کرنا نیکی ہوتی ہے۔پس ہمارے ذمہ یہ فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو دینی مسائل سے آگاہ کریں اور انہیں ان