مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 187
187 نازل ہوا اور وہ یہ تھا کہ نماز یں اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی بنائی ہیں۔کچھ فرض نمازوں کا تو وہ حصہ جو دن میں ادا کیا جاتا ہے اور کچھ فرض نمازوں کا وہ حصہ ہے جو رات کے وقت ادا کیا جاتا ہے کیونکہ دن اور رات کی نمازوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے کہ انہیں خوشی کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہئیے اور مصیبتوں کے وقت میں بھی اس کی عبادت میں مشغول رہنا چاہئے۔ترقی کے زمانہ میں بھی اس کی طرف جھکنا چاہئے اور تنزل کے زمانہ میں بھی اس کے دروازہ پر گرا رہنا چاہئے۔تو اس حکمت کے پیش نظر اللہ تعالٰی نے اپنی عبادت کو دو حصوں میں منقسم کر دیا اور ایک حصہ تو دن میں رکھا اور دوسرا حصہ رات میں۔اس طرح پانچ نمازیں چوبیس گھنٹوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد انسان کو نماز پڑھنی پڑتی ہے۔دوسری طرف ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نظر آتا ہے کہ وہ طاق اللہ تعالی طاق چیزوں کو پسند کرتا ہے چیزوں کو پسند کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی طاق چیزوں کو پسند کرتا ہے۔وہ خود بھی ایک ہے اور دوسری اشیاء کے متعلق بھی وہ یہی پسند کرتا ہے کہ وہ طاق ہوں چنانچہ یہ حکمت ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہے مگر یہ ایک الگ اور وسیع مضمون ہے جس کو اس وقت بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تمام قانون قدرت میں اللہ تعالیٰ نے طاق کو قائم رکھا ہے اور اس کے ہر قانون پر طاق حاوی ہے۔قرآن کریم کے محاوروں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محاوروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سات کے عدد کو تکمیل کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے دنیا کو سات دن میں بنایا۔اسی طرح انسان کی روحانی ترقیات کے سات زمانے ہیں۔پھر آسمانوں کے لئے بھی قرآن کریم میں سبع سموات کے الفاظ آتے ہیں اور یہ طاق کا عدد ہے۔تو طاق کا عد داللہ تعالیٰ کے حضور خاص حکمت رکھتا ہے اور اس کا مظاہرہ ہم تمام قانون قدرت میں دیکھتے ہیں۔اب اس قانون کے مطابق اگر فرض نمازوں کی رکعات کو جمع کرو تو وہ طاق ہی بنتی ہیں چنانچہ ظہر کی چار عصر کی چار ، مغرب کی تین ، عشاء کی چار اور فجر کی دو کل سترہ رکعات ہوتی ہیں اور اس طرح فرض نماز کی رکعتوں میں اللہ تعالٰی نے طاق کی نسبت کو قائم رکھا ہے۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں طاق مد نظر رکھا گیا ہے اس لئے پانچ نمازوں میں سے ایک فرض نماز کی رکھتیں تین کردی گئیں تاکہ طاق کے متعلق اللہ تعالیٰ کا جو قانون ہے وہ نمازوں میں بھی آجائے۔اسی طرح و تروں کی نماز کو طاق اس لئے بنایا گیا ہے کہ نوافل بھی طاق ہو جائیں اور اسی وجہ سے وتروں کو معمولی سنتوں سے زیادہ وقعت دے دی گئی ہے تاکہ مسلمان انہیں ضرور ادا کرے اور اس کے نوافل طاق ہو جایا کریں اور یہی وجہ ہے کہ وتروں کے سوا اور کوئی نفل طاق نہیں ہو تا تا دو طاق مل کر جفت نہ ہو جائیں اور یہی حکمت ہے کہ