مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 168

168 آج میں اپنے گزشتہ خطبات کے سلسلہ میں خدام الاحمدیہ کے قریب کے پروگرام کے متعلق دو اور ضروری امور بیان کرتا ہوں۔سات امر میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔آٹھواں امر یہ ہے کہ انسانی صحت دماغ پر خاص اثر کرتی ہے۔ہزاروں کام دنیا جسمانی صحت کا دماغی صحت سے گہرا تعلق کے ایسے ہیں جو صحت جسمانی سے تعلق رکھتے ہیں گو وہ دین کا حصہ نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خالص دماغی کام انسان چار پائی پر لیٹے ہوئے بھی کر سکتا ہے لیکن بعض قسم کی صحت کی خرابی دماغ کے اندر بھی خرابی پیدا کر دیتی ہے۔ہر انسان ایسا نہیں ہو تاکہ بیماری کی حالت میں بھی اس کا دماغ کام کر رہا ہو۔یہ ایک بار یک مضمون ہے اور اس کے بیان کا یہاں موقع نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو حقیقی صحت ہوتی ہے وہ جسم کے اعضاء کی بیماریوں کے ساتھ اتنا تعلق نہیں رکھتی جس قدر کہ اس کی اندرونی طاقتوں کے ساتھ۔انسانی جسم کی طاقت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک اعضاء کی ظاہری بیماری اور ایک جسم کی قوت برداشت یا حقیقی صحت۔کبھی کبھی یہ قوت برداشت قدرتی طور پر اتنی زبر دست ہوتی ہے کہ ظاہری بیماریاں آکر بھی اسے توڑ نہیں سکتیں۔ایسی صورت میں انسانی دماغ ہر حالت میں کام کر سکتا ہے مگر بعض حالات میں قوت برداشت بھی کمزور ہوتی ہے اور ظاہری عوارض بھی لگے ہوتے ہیں۔ایسا انسان بیماری کے ساتھ دماغی قابلیت بھی کھو تا چلا جاتا ہے۔عام قانون یہی ہے کہ جو اوسط درجہ کی قوت برداشت کا انسان ہو ، اس کی خرابی صحت کے ساتھ دماغ پر برا اثر ضرور پڑتا ہے۔کم سے کم ستی کسل اور ہمت کی کمی ضرور پیدا ہو جاتی ہے اور کسل اور سستی اور ہمت کی کمی بھی ایسے امور ہیں کہ اگر کسی قوم میں پیدا ہو جائیں تو خطرناک نتائج ظاہر ہونے لگتے ہیں۔یہ بات ظاہر ہی ہے کہ خواہ قوت برداشت کیسی ہو بیماری میں انسان بعض کام نہیں کر سکتا مثلا اگر نظر کمزور ہو تو خواہ دماغی قابلیت کتنی ہی زبر دست کیوں نہ ہو ، انسان لڑائی کے قابل نہیں ہوتا اور وہ فوج میں بھرتی کے لئے موزوں نہیں سمجھا جاتا کیونکہ فوج کے لئے جس قسم کی قوت کی ضرورت ہے ، وہ اسے حاصل نہیں ہوتی اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا خصوصاً بچپن میں لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ورزشوں کی عادت جو ڈالی جاتی ہے وہ اس لئے ہوتی ہے کہ انسان کے جسم میں چستی اور ورزش کے فوائد پھرتی پیدا ہو اور اس کے اعضاء درست رہیں اور اس کی ہمت بڑھے۔ورزش سے پسینہ آتا ہے جس سے بہت سے زہر دور ہوتے ہیں اور اس لئے ورزش کو نظر انداز کر کے کلی طور پر بچہ کو دماغی کام میں لگانا دماغ کو کمزور کرنے کا موجب ہوتا ہے۔بچپن میں کھیل کود اور ورزش انسان کی فطرت میں اس لئے رکھی گئی ہے تاکہ اس کی جسمانی قوت برداشت بڑھ جائے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الصَّبِيُّ صَبى ولو كان لا یعنی بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ آئندہ نبی ہونے والا ہو۔بے شک وہ چند سالوں کے بعد نبی بن جائے گا مگر بچپن کی حالت میں اس کی خواہشات ضرور ایسی ہی ہوں گی جو بچپن سے مناسبت رکھتی ہوں