مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 157
157 نہیں آتی پھر سب کو ہم کس طرح ذہین بنا سکتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ گو انسانی طاقتیں محدود ہیں مگر جس قسم کی قوتیں اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ میں رکھی ہوئی ہیں وہ ایسی ہیں کہ محنت اور دباؤ سے وہ تیز ہو جاتی ہیں اور عقل اور فطانت کی جنس تھوڑی بہت اللہ تعالیٰ نے ہر دماغ میں رکھی ہوئی ہے سوائے اس کے جو پاگل ہو اور ایسا شخص ہزاروں میں سے کوئی ایک ہو تا ہے۔باقی جس قدر اوسط دماغ رکھنے والے انسان ہیں ان کے اندر ہر قسم کا مادہ موجود ہو تا ہے۔وہ ذہانت بھی رکھتے ہیں وہ فطانت بھی رکھتے ہیں، وہ عقل بھی رکھتے ہیں وہ فکر بھی رکھتے ہیں وہ علم بھی رکھتے ہیں ، وہ شعور بھی رکھتے ہیں وہ احساس بھی رکھتے ہیں اور جب کوئی شخص ان قوتوں کو ترقی دینا چاہے تو وہ ترقی دے سکتا ہے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ انتہا درجہ کا فطین ذہانت اور فطانت کی قدرتی قوت کو ترقی دی جاسکتی ہے نہ بنے اور انتہادرجہ کا کی نہ بنے وہ انتہا وہ ذ درجہ کا زمین نہ بنے وہ انتہا درجہ کا حساس نہ بنے اور انتہا درجہ کا باشعور نہ بنے وہ انتہا درجہ کا فقید نہ بنے وہ انتہا درجہ کا مفکر نہ بنے مگر وہ اوسط درجے کا فطین ایک اوسط درجے کا زمین اور ایک اوسط درجہ کا مفکر اور فقید بن سکتا ہے اگر کوشش کرے۔پس خدام الاحمدیہ کا کام اس طرز پر ہونا چاہئے کہ نوجوانوں میں ذہانت پیدا ہو۔ممکن ہے وہ کہیں ہمیں یہ باتیں نہیں آتیں اور ہم سمجھ نہیں سکتے کہ کس طرح اس کام کو چلا ئیں۔سو وہ میرے پاس آئیں اور مجھ سے مشورہ لیں۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تمام باتیں آتی ہیں۔میں انہیں باتیں بتاؤں گا۔آگے عمل کرنا ان کا کام ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر وہ میری باتوں پر عمل کریں تو نو جوانوں میں بہت جلد ذہانت پیدا ہو سکتی ہے۔ذہانت دراصل نتیجہ ہے کامل توجہ کا۔اگر ہم کامل توجہ کی عادت ڈال لیں تو ذہانت کامل توجہ کا نتیجہ ہے لازما ہمارے اندر ذہانت پیدا ہوگی اور یہ ذہانت پھر ایک مقام پر ٹھہر نہیں جاتی بلکہ ترقی کرتی رہتی ہے۔میں نے اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے خدام الاحمدیہ کے کارکنان کو نصیحت کی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے فرائض کی بجا آوری میں غفلت سے کام لیتا ہے تو اسے سزا دو کیونکہ توجہ پیدا کرنے کے مختلف سامانوں میں سے ایک سامان ڈر بھی ہے یعنی انسان کو یہ خیال کہ اگر میں ناکام رہا تو مجھے سزا ملے گی۔یورپین لوگوں میں ذہانت کی سزا کی اہمیت اور یورپ میں ذہانت کے معیار کی ترقی کا ایک راز ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مجرم کو سزا دینے میں سخت سنگدل ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں یہ ہو تا ہے کہ جب کسی سے کوئی قصور سرزد ہو اور اسے سزا دی جائے تو وہ اپنے قصور کے ازالہ کے لئے صرف اتنا کافی سمجھتا ہے کہ پیسے کے دسویں حصہ کا کاغذ لیا