مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 149

149 نے سمجھا کہ میری خفگی اس لئے ہے کہ میری چھتری گم ہو گئی ہے اور وہ کہنے لگا کہ اگر مجھے پتہ لگ جائے کہ آپ نے چھتری کہاں سے خریدی تھی تو میں ویسی ہی چھتری خرید کر آپ کو دے دوں۔اب یہ اتنی کمینہ ذہنیت ہے کہ مجھے اس کا خیال کر کے اب بھی پسینہ آجاتا ہے اور میں حیران ہوتا ہوں کہ کیا اتنا ذلیل اور کمینہ انسان بھی کوئی ہو سکتا ہے۔وہ احمد ی تھا گو بعد میں عملاً مرتد ہو گیا مگر بہر حال وہ کہلا تا احمدی تھا۔تو ہندوستانیوں میں یہ ایک نہایت ہی احمقانہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ کبھی بھی چاروں طرف نگاہ نہیں ڈالیں گے۔میں اگر مثالیں دوں تو چونکہ بہت سے لوگوں پر زد پڑتی ہے اس لئے فورا پتہ لگ جائے گا کہ یہ فلاں کی بات ہو رہی ہے اور یہ فلاں کی۔پس میں مثالیں نہیں دیتا۔یہ جو مثال میں نے پیش کی ہے یہ بہت ہی پرانی ہے اور وہ آدمی خاص عملے کا بھی نہ تھا اور اب تو وہ مر بھی چکا ہے اس لئے میں نے یہ مثال دے دی ورنہ میں اس مہینہ کی دس ہیں ایسی مثالیں دے سکتا ہوں جو نہایت ہی احمقانہ ہیں اور جن کو میں اگر بیان کروں تو تم میں سے ہر شخص انہیں سن کر ہنسے گا لیکن جب خود تمہارے سپر دو ہی کام کیا جائے گا تو تم بھی وہی حماقت کرو گے جو دوسروں نے کی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ذہانت کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی۔سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو طلبہ میں ذہانت پیدا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے ہمارے سکولوں اور کالجوں میں طالب علموں کی ذہانت کی ترقی کے لئے قطعی طور پر کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔استاد اور پروفیسر محض کتابیں پڑھا دیتے ہیں اور طالب علموں کو الفاظ رٹا دیتے ہیں لیکن خالی لفظوں کو لے کر کسی نے کیا کرنا ہے۔اگر ایک پڑھا لکھا شخص ہو لیکن ذہین نہ ہو تو اس سے بہت زیادہ کام وہ شخص کر سکتا ہے جو گو پڑھا ہوا نہ ہو مگر ذہین ہو۔کیا ہٹلر جرمنی کا سب سے زیادہ پڑھا ہوا شخص ہے۔کیا مسولینی اٹلی کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ انسان ہے۔کیا اتا ترک برکی کا سب سے زیادہ عالم تھا۔کیا لیفن رشیا کا سب سے زیادہ پڑھا ہوا شخص تھا۔یہ سارے ہی اپنی اپنی جگہ معمولی تعلیم حاصل کئے ہوئے تھے۔مسولینی کی تعلیم مڈل تک ہے۔ہٹلر کی تعلیم انٹرنس جتنی ہے۔اتا ترک گو ایک کالج میں پڑھا مگر وہ نہایت ہی چھوٹے درجہ کا کالج تھا اور اس کی تعلیم بھی انٹرنس جتنی ہے مگر کیا چیز ہے جس نے ہٹلز، مسولینی ، اتاترک اور لینن کو اپنے ملکوں کا لیڈر بنا دیا۔وہ ذہانت ہے جس نے ان لوگوں کو اپنے ملک کا لیڈر بنایا ، علم نہیں۔جب علم والے اپنی کتابوں پر نگاہ ڈالے بیٹھے تھے اس وقت یہ لوگ ساری دنیا پر نگاہ ڈالے ہوئے انسانی فطرت کی گہرائیوں کے مطالعہ میں مشغول تھے اور آخر وہاں سے وہ اپنی قوم کی مراد کا وہ موتی لے آئے جس کے لئے وہ بے تابانہ جستجو کر رہے تھے۔پس ذہانت بالکل اور چیز ہے اور علم اور چیز۔علم بھی اچھی چیز ہے مگر ذہانت کے بغیر علم کسی کام کا نہیں ہو تا۔میں نے بتایا ہے کہ میں اس کے متعلق مثالیں نہیں دے سکتا کیونکہ میں اگر مثالیں دوں تو وہ لوگ بالکل نگے ہو جائیں جن کے وہ واقعات ہیں اور سب کو ان کا پتہ لگ جائے اس لئے میں بعض پرانے لوگوں کے قصے یا