مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 147
147 ان کے سامنے کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگ جائیں گے۔ایک کے گالیوں کرنا چاہئے دوسرا کے گایوں نہیں دوں کرنا چاہئے۔اب وقت گزر رہا ہے، کام خراب ہو رہا ہے مگر وہ بے وقوفی کی بحثیں کرتے رہیں گے۔کبھی ان کے دماغ میں یہ بات نہیں آئے گی کہ اس بحث سے زیادہ حماقت کی بات اور کوئی نہیں۔تم اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کرو اور اس کے فیصلہ کو تسلیم کر لو مگر یہ حماقت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ جس شخص کے فیصلہ کو وہ تسلیم کرنے کا دعوی بھی کریں گے اس کے فیصلوں پر بھی جھٹ اعتراض کر دیں گے اور اگر اعتراض نہیں کریں گے تو کم از کم اس کے معاملات میں دخل دینے کی ضرور کوشش کریں گے۔میں خلیفہ ہوں اور جماعت میری اطاعت کا اقرار کئے ہوئے ہے مگر میرا قریبا نوے فیصدی تجربہ ہے کہ جب بھی میں کوئی کام کرنے لگوں ہر شخص مجھے مشورہ دینے لگ جاتا ہے۔اب ساری سکیم سوچی ہوئی میرے ذہن میں موجود ہوتی ہے مگر وہ خواہ مخواہ دخل دے کر کام کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ وہی احمقانہ عادت ہے جو تمام ہندوستانیوں کے اندر پائی جاتی ہے کہ وہ کبھی بھی صحیح لیڈری کو تسلیم نہیں کریں گے۔بھلا ایک شخص جو لڑائی کے لئے لوگوں کو جمع کر کے لے جا رہا ہو ، دشمن سر پر کھڑا ہو اور حالت ایسی ہو کہ ایک لمحہ کا ضیاع بھی سخت نقصان پہنچانے والا ہو، اس وقت اگر تم راستہ روک کر کھڑے ہو جاؤ اور اسے مشورہ دینے لگ جاؤ تو اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ تم اپنے لوگوں کو تباہ کرانا چاہتے ہو پس یہ مشورہ نہیں بلکہ اپنی حماقت اور نادانی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔کسی بیمار کے پاس دو ہندوستانی ڈاکٹر چلے جائیں ، وہ بجائے اس کے کہ متفقہ طور پر اس کے لئے کوئی علاج تجویز کریں ، آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے۔وہ کہے گا یہ دوا دینی چاہئے یہ کسے گاوہ دوا دینی چاہئے۔بیمار مر رہا ہو گا اور یہ آپس میں بحث کر رہے ہوں گے۔غرض کبھی بھی ضرورت اور محل کے موقع پر وہ اس امر کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے کہ اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کر دیں اور جو کچھ وہ کہے اس کے مطابق کام کریں۔استثنائی طور پر اگر بعض دفعہ کوئی لطیف بات کسی کو سوجھ جائے تو اس کے بتانے میں کوئی حرج نہیں ہو تا مگر ہندوستانی ذہنیت یہ ہے کہ وہ ہر بات میں خواہ مخواہ دخل دیں گے اور بجائے کسی کی صحیح لیڈری پر اعتماد کرنے کے اپنی بات پر زور دیتے چلے جائیں گے اور کہیں گے کہ یوں کرنا چاہئے خواہ ان کی بات کس قدر ہی احمقانہ کیوں نہ ہو اور خواہ اس شخص کی سکیم سے وہ کتنے ہی نا واقف کیوں نہ ہوں۔تو یہ مادہ ہندوستانیوں کے دلوں میں نہایت ہی گہرے طور پر راسخ ہو چکا ہے اور چونکہ اکثر احمدی ہندوستانی ہیں وہ بھی ایک حد تک اس مرض میں مبتلا ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میرے دل میں کبھی مایوسی پیدا نہیں ہوئی لیکن اگر کبھی میرے دل میں مایوسی کے مشابہ کوئی کیفیت پیدا ہوئی ہے تو وہ اسی حالت پر ہوئی ہے جو ہندوستانیوں میں عام طور پائی جاتی ہے اور جس سے احمدی بھی مستثنیٰ نہیں کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی کبھی نظام کے مطالبہ کو پورا نہیں کر سکتے۔میں نے ہمیشہ سفروں میں دیکھا ہے باوجود اس کے کہ عملہ کے سات آٹھ آدمی ساتھ ہوتے ہیں اور معمولی سو پچاس کے لگ بھگ چیزیں ہوتی ہیں ، وہ ضرور کچھ نہ کچھ سامان پھینک کر آجاتے ہیں اور جب پوچھا جاتا ہے تو -