مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 146
146 " آج میں خدام الاحمدیہ کو ان کے بعض اور فرائض کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس وقت تک میں:۔(1) قومی روح کا اپنے اندر پیدا کرنا ، جماعتی کاموں میں دلی شوق کے ساتھ حصہ لے کر ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہنا اور تنظیم کا مادہ اپنے اندر پیدا کرنا۔(۲) اسلامی تعلیم سے واقفیت۔(۳) آوارگی اور بے کاری کا ازالہ۔(۴) اچھے اخلاق خصوصا سچ اور دیانت کا پیدا کرنا اور (۵) ہاتھ سے کام کرنا۔ان پانچ امور کی طرف انہیں توجہ دلا چکا ہوں۔آج میں اسی سلسلہ میں ایک اور ضروری امر کی طرف انہیں توجہ دلاتا ہوں جو میرے نزدیک نہایت ہی اہم ہے مگر اس کی طرف توجہ بہت ہی کم کی جاتی ہے۔مجھے ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد جن سے کام کرنے کا مجھے موقعہ ملا ہے اور وہ جو ان بھی ہیں اور بوڑھے بھی وہ پڑھے لکھے بھی ہیں اور ان پڑھ بھی۔ہندوستانیوں کے متعلق ایک نہایت ہی تلخ تجربہ ہوا ہے جو ہمیشہ میرے دل پر ایک پتھر کی طرح بوجھ ڈالے رکھتا ہے اور وہ یہ کہ ایک لمبے عرصہ کی غلامی کے بعد ہندوستانی عقل اور ذہانت کو بالکل کھو چکے ہیں۔وہ جب بھی کوئی کام کریں گے اس کے اندر حماقت اور بے وقوفی ضرور ہوگی الا ماشاء اللہ چند لوگ اگر مستثنی ہوں تو اور بات ہے لیکن ایسے لوگ بھی ایک فیصدی سے زیادہ نہیں ہیں۔اب سو میں سے ایک کی آبادی سو کا بوجھ کس طرح اٹھا سکتی ہے۔اگر سو میں سے ساٹھ ستر آدمی فرض شناس اور ذہین ہوں تو وہ بقیہ تمہیں چالیس کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں لیکن جس ملک کے سو آدمیوں میں سے ننانوے ذہانت سے عاری ہوں اور سو میں سے صرف ایک شخص ذہین ہو تو اس کے متعلق جس قدر بھی مایوسی ہو کم ہے۔کوئی کام دے دیا جائے اس میں ضرور کچھ نہ کچھ حماقت اور بے وقوفی دکھانا ہندوستانی شاید اپنے لئے ضروری سمجھتا ہے اور جب وہ بے وقوفی کرتا ہے اور اسے سمجھایا جاتا ہے کہ وہ ایسی بے وقوفی نہ کیا کرے تو وہ اس سے الٹا نتیجہ نکالتا ہے اور جو اسے تعلیم دی جائے اسے وہ ہمیشہ اپنے لئے گالی اور ہتک سمجھتا ہے اور جس طرح بچھو نیش لگاتا ہے اسی طرح وہ اس نصیحت کے بدلے دو سرے کو نیش لگانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ ایک نہایت ہی تلخ بات ہے جو میرے تجربہ میں آئی ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے ایک عزیز نوجوان نے مجھ سے ذکر کیا کہ فوج میں جہاں کہیں مخلص احمدی دیکھے گئے ہیں ، وہ ہمیشہ دوسروں سے زیادہ ہوشیار ہوتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سچا ایمان اور سچا اخلاص ذہانت ضرور پیدا کر دیتا ہے کیونکہ عدم ذہانت در اصل توجہ کی کمی کا نام ہے اور کامل توجہ کا نام ہی ذہانت ہے۔جب انسان کسی امر کی طرف کامل توجہ کرتا ہے تو اس کے چاروں کو نے اس کے سامنے آجاتے ہیں مگر جب کبھی وہ پوری توجہ نہیں کرتا اس کے کئی گوشے اس کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔چار پانچ ہندوستانی اکٹھے سفر کر رہے ہوں اور