مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 126

126 پڑھنے والا ہو گا۔وہ زکوۃ دینے والا ہو گا۔وہ سارے ہی احکام اسلام کی پابندی کرنے والا ہو گا مگر خدا اسے فرمائے گا کہ تمہارا ٹھکانا دوزخ کے سوا اور کہیں نہیں کیونکہ تم قومی غداری کے مجرم ہو۔تو قومی غداری ایک نہایت ہی خطرناک جرم ہے۔صحابہ کو ہی دیکھ لو۔انہوں نے قومی دیانت کا کیسا شاندار نمونہ دکھایا۔ایسا اعلی نمونہ کہ شدید ترین دشمن بھی ان کی اس خوبی کا اعتراف کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا پر غالب آئے اور یہی وہ چیز ہے جسے ہم اپنے اندر پیدا کر کے دنیا پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔یقین یا درکھو جو قوم مرنے مارنے پر تلی ہوئی ہو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔اگر اس پر کوئی حملہ بھی کرے تو مٹتی نہیں بلکہ ابھرتی ہے اور گرتی نہیں بلکہ ترقی کرتی ہے۔تو تمہارا ایک کام یہ ہے کہ تم نوجوانوں میں قومی دیانت پیدا کرو۔اسی طرح ان میں تجارتی دیانت پیدا کر دیا زیادہ وسیع لفظ اگر استعمال کیا جائے تو اس کے لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تم معاملاتی دیانت پیدا کرو اور اخلاقی دیانت کے پیدا کرنے سے بھی غافل نہ رہو۔اگر تم بار بار نوجوانوں کو یہ سبق دو۔اگر تم دیکھتے رہو کہ تم میں سے کسی میں دیانت کا فقدان تو نہیں ہو رہا اور اگر تم اپنے دوستوں اپنے ہمسایوں ، اپنے رشتہ داروں ، اپنے اہل محلہ اور اہل شہر میں یہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرو تو یقیناً تم ایک ایسا کام کرتے ہو جو احمدیت کو زندگی بخشنے والا ہے۔باقی رہا سچ۔سوچ بھی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔سارے فساد اور لڑائی جھگڑے محض جھوٹ سے پیدا ہوتے ہیں۔لوگوں کو اگر ایک دوسرے پر اعتبار نہیں آتا یا تعلقات میں کشیدگی ہوتی ہے تو محض اس لئے کہ وہ بچ نہیں بولتے۔مگر جس کی سچائی پر لوگوں کو یقین ہو اس کے متعلق وہ ایسی باتیں بھی ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جن باتوں کو وہ کسی دوسری صورت میں تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم میں اللہ کے پاس آیا۔وہ معلوم ہو تا ہے کوئی موٹی عقل کا آدمی تھا جس نے اسلام پر غور کیا مگر اسلام کی صداقت اس پر کسی طرح منکشف نہ ہوئی۔مگر پھر اس کے دل میں شبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر اسلام سچا ہی ہوا تو میں خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا۔رسول کریم میں چونکہ صدوق مشہور تھے اور ہر شخص اس بات کو تسلیم کرتا تھا کہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے اس لئے اس نے فیصلہ کیا کہ اس امر کا بھی آپ سے ہی فیصلہ کرائے اور اسی شخص سے جو مدعی ہے دریافت کرے کہ کیا وہ اپنے دعوی میں سچا ہے یا نہیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جو شخص مدعی ہے اسی سے وہ پوچھنے آتا ہے کہ کیا آپ واقعہ میں مدعی ہیں یا یونسی کہہ رہے ہیں۔وہ چونکہ رسول کریم ملی تیم کی رسالت کا قائل نہیں تھا اس لئے اس نے آتے ہی کہا کہ اے محمد ! م ل ل ل ا ل ہی میں تجھ سے ایک سوال کرتا ہوں تو خدا کی قسم کھا کر مجھے اس کا جواب دے۔رسول کریم میں اللہ نے فرمایا بہت اچھا جو بات تم دریافت کرنا چاہتے ہو دریافت کرو۔اس نے کہا تو آپ خدا کی قسم کھا کر بتائیں کہ کیا آپ نے جو دعوی کیا ہے یہ خدا کے حکم کے مطابق کیا ہے اور کیا واقعہ میں خدا نے آپ کو رسول بنایا ہے ؟ رسول کریم میں ان کی ہیلی نے فرمایا میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا نے ہی رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس نے کہا اگر یہ بات ہے تو ہاتھ لائیے میں ابھی آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔اب