مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 125
125 گی۔پس عرب کے ان لیڈروں نے جو زندہ تھے آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کر دیا کہ کوئی شخص بد ر کے مقتولین کا ماتم نہ کرے اور اگر کوئی شخص ماتم کرے تو اسے قوم سے نکال دیا جائے۔اس کا بائیکاٹ کیا جائے اور اس پر جرمانہ کیا جائے۔عرب ایک قبائلی قوم ہے اور جو قبائلی قومیں ہیں ان میں قومی روح انتہا درجہ کی شدید ہوتی ہے۔پس اس حکم کی خلاف ورزی ان کے لئے ناممکن تھی۔مائیں اپنے کلیجوں پر سل رکھ کر باپ اپنے دلوں کو مسوس کر اور بچے اپنی زبانوں کو دانتوں تلے دبا کر بیٹھ کر گئے اور ان کے لبوں سے آہ بھی نہیں نکلتی تھی کیونکہ ان کی قوم کا یہ فیصلہ تھا کہ آج رونا نہیں تا محمد ملی و لی لی ہے اور اس کے ساتھی خوش نہ ہوں اور وہ یہ نہ کہیں کہ دیکھا ہم نے مکہ والوں کی کیسی شکست دی۔مگر دل تو جل رہے تھے ، سینوں میں سے تو شعلے نکل رہے تھے ، جگر تو ٹکڑے ٹکڑے ہو رہے تھے۔وہ دروازے بند کر کے تاریک گوشوں میں بیٹھتے اور دبی ہوئی آواز کے ساتھ روتے تاکسی کو یہ پتہ نہ لگے کہ وہ رو رہا ہے مگر یہ رونا ان کی تسلی کا موجب نہیں تھا۔کیونکہ انسان غم کے وقت دوسرے سے تسلی چاہتا ہے۔بیوی چاہتی ہے کہ خاوند مجھ سے دکھ درد کرے اور خاوند چاہتا ہے کہ بیوی مجھ سے دکھ درد کرے۔باپ چاہتا ہے کہ بیٹا میرے غم میں حصہ لے اور بیٹا چاہتا ہے کہ باپ میرے غم میں حصہ لے۔اسی طرح ہمسایہ چاہتا ہے کہ ہمسایہ والے میرا غم بنائیں اور اگر کوئی ایسا ماتم ہو جائے جس کا اثر سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں پر ہو تو اس وقت سب لوگ چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کر دیں اور اس طرح اپنے دکھ درد کو کم کریں۔پس تنہائی کے گوشوں میں بیٹھ کر رونا ان کی تسلی کا موجب نہیں تھا۔مہینہ گزر گیا اور برابر یہ حکم نافذ رہا۔اس عرصہ میں وہ آگ جو انہوں نے اپنے سینہ میں دبا ر کھی تھی سلگتی رہی۔آخر مہینہ کے بعد ایک دن ایک مسافر وہاں سے گذرا۔اس کی ایک اونٹنی تھی جو راہ میں ہی مرگئی۔وہ اونٹنی کے غم میں چیچنیں مار کر رو تا جارہا تھا اور کہتا جا رہا تھا۔ہائے میری اونٹنی مرگئی۔ہائے میری اونٹنی مرگئی۔تب مکہ کا ایک بوڑھا شخص جو اپنے مکان کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھا ہوا تھا اس نے اپنے مکان کے دروازے کھول دیئے اور بازار میں آکر زور زور سے اس نے پیٹنا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس شخص کو اپنی اونٹنی پر تو رونے کی اجازت ہے مگر میرے تین جوان بیٹے مارے گئے اور مجھے رونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔یہ ایک نعرہ تھا جو اس نے لگایا جس نے مکہ میں ایک شعلہ کا کام دیا۔اس کے بعد نہ کسی کو قانون کا خیال رہا نہ قوم اور برادری سے اخراج کی دھمکی کا خیال رہا۔معاملہ کے گھروں کے تمام دروازے کھل گئے اور چوکوں اور بازاروں میں عورتیں اور بچے پیٹنے لگ گئے۔یہ وہ موتیں تھیں جو تین سو تیرہ جان باز صحابہ کی شکلوں میں ظاہر ہو ئیں۔جب ایک ملک الموت ساری دنیا کی جان نکال لیتا تھا تو اگر انسان بھی ملک الموت کا نمائندہ بن جائے اور کہے کہ میں مرجاؤں گا مگر اپنے کام سے نہیں ہٹوں گا تو اسے کون مار سکتا ہے اسلام ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔مگر اسلام اس معاملہ میں کوئی استثناء نہیں کرتا کہ اگر کوئی مسلمان ڈر کر یا غداری سے کام لے کر میدان جنگ سے بھاگ آئے تو سوائے جہنم کے اس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔وہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والا ہو گا۔وہ محمد رسول اللہ کہنے والا ہو گا۔وہ نمازیں