مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 98

98 " میں نے پچھلے خطبہ میں اس امر کا ذکر کیا تھا کہ خدام الاحمدیہ اپنے کام ایک پروگرام کے ماتحت کریں جیسی جماعت کا وجود ایک نہایت ہی ضروری اور اہم کام ہے اور نوجوانوں کی درستی اور اصلاح اور ان کا نیک کاموں میں تسلسل ایک ایسی بات ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔میں نے بتایا تھا کہ مستورات کی اصلاح کے لئے لجنہ اماءاللہ کا قیام اور مردوں کی اصلاح کیلئے خدام الاحمدیہ کا قیام گویا دونوں ہی قومی تحریک کے دو بازو ہیں اور تربیت کی تکمیل کے لئے نہایت ضروری امور میں سے ہیں۔میں نے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی کہ ان کو اپنے کام ایک پروگرام کے ماتحت کرنے چاہئیں۔یہ نہیں کہ بغیر پروگرام کے کام کرتے رہیں کیونکہ اس طرح بغیر پروگرام کے کام کرنے سے چنداں فائدہ نہیں ہو تا۔آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کو اپنے قریب مستقبل میں اور بعید میں بھی بعض باتیں اپنے پروگرام میں شامل کرنی چاہئیں۔ممکن ہے ان کے سوا بعد میں بعض اور باتیں بھی شامل ہوتی جائیں۔لیکن مستقبل قریب میں انہیں مندرجہ ذیل باتوں پر خاص توجہ کرنی چاہئے ان میں سے بعض تو ایسی ہیں کہ وہ ہمیشہ ہی ان کے کام کے ساتھ وابستہ رہنی چاہئیں اور بعض ایسی ہیں جو مختلف زمانوں میں مختلف شکلیں بدل سکتی ہیں۔ان کے فرائض میں سے پہلا فرض یہ ہونا چاہئے خدام الاحمد یہ نوجوانوں میں قومی روح پیدا کرے کہ اپنے ممبروں میں قومی روح پیدا کر یں۔قوم کا لفظ آجکل اتنابد نام ہو چکا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول اس سے چڑ جایا کرتے تھے۔جب کوئی شخص آپ کے سامنے کہتا کہ ہماری قوم تو آپ فرمایا کرتے کہ ”ہماری قوم کیا ہوتی ہے ؟ ہمارا مذ ہب کہنا چاہئے۔لیکن در حقیقت بات یہ ہے کہ جہاں یہ لفظ نسلی امتیاز پر دلالت کرتا ہے وہاں مذہبی امتیاز پر بھی دلالت کرتا ہے۔چنانچہ خود قرآن کریم میں بھی اس کی مثال موجود ہے جیسا کہ اِن قَومِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - حضرت خلیفته المسیح الاول کا اعتراض بوجہ اس غلط استعمال کے تھا جو آجکل اس لفظ کا ہو رہا ہے اور جب کسی لفظ کا اس طرح غلط استعمال عام ہو جائے تو بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔جب قوم کا لفظ نسلی یا سیاسی جتھے کے معنوں میں استعمال ہونے لگے اور مذہب کا جبھہ اس سے مراد نہ ہو تو اس کا استعمال قابل اعتراض ہے کیونکہ دنیا میں اسلام کی غرض یہ ہے کہ تمام سیاسی، نسلی اور اقتصادی جتھوں کو مٹادے اور بنی نوع انسان میں ایک عام اخوت کی تعلیم رائج کرے۔پس اس لفظ کے غلط استعمال کی وجہ سے اگر کبھی اس لفظ کو استعمال سے خارج کر دیا جائے تو یہ کوئی بری بات نہیں لیکن اپنے وسیع معنوں میں یہ لفظ برا نہیں۔غرض خدام الاحمدیہ کو یاد رکھنا چاہئے کہ قومی اور ملی روح کا پیدا کرنا ان کے ابتدائی اصول میں سے ہے۔اس سال جلسہ سالانہ پر میں نے جو تقریر کی تھی اس میں بتایا تھا کہ نبوت کی پہلی غرض ملی روح کا پیدا کر نا تھا۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت اور شریعت کا مرکزی نقطہ ملی روح پیدا کرنا ہی تھا۔اس وقت لوگ گناہ سے واقف نہ تھے اور نہ ہی ثواب کی زیادہ راہیں ابھی تک کھلی تھیں۔اس وقت حضرت آدم کی نبوت کی غرض یہی تھی کہ