مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 792
یا رب ترے دیوانے تعریف کے قابل ہیں یا رب تیرے دیوانے آباد ہوئے جن سے دُنیا کے ہیں ویرانے کب پیٹ کے دھندوں سے مسلم کو بھلا فرصت ہے دین کی کیا حالت یہ اس کی بلا جانے جو جاننے کی باتیں تھیں اُن کو بھلایا ہے جب پوچھیں سبب کیا ہے کہتے ہیں خدا جانے سرمستی سے خالی ہے دل عشق سے عاری ہے بیکار گئے اُن کے سب ساغر و پیمانے خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر فانوس ہی اندھا ہے یا اندھے ہیں پروانے فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اُجاڑا ہے آباد کریں گے اب دیوانے ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رخ انور کیوں جمع یہاں ہوتے سب دُنیا کے پروانے ہے سماعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کردوں انجام خدا جانے یہ ویرانے ***