مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 71
71 ۱۱نومبر ۱۹۳۸ء جامعہ احمدیہ مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے مدرسہ احمدیہ کے صحن میں حضرت مولوی شیر علی صاحب حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی ولایت سے کامیاب مراجعت کی خوشی میں ایک دعوت چائے دی گئی تھی۔جس میں سید نا حضرت خلیفۃ ابیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔ایڈریس اور جواب ایڈریس کے بعد حضرت خلیفۃ السیح الثانی نے ایک مبسوط تقریر فرمائی۔جس میں حضور نے مبلغین سلسلہ کے متعلق جماعت پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں ان کی طرف دوستوں کو توجہ دلائی اور بالآخر حضور نے اپنے بچوں کو نہایت قیمتی نصائح فرمائیں۔میں اپنی جماعت کے نوجوانوں کو خصوصاً اور دوسرے احباب کو عموماً یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ملک اور قوم کے قانونی وجود کو سمجھیں۔آرام سے بیٹھے رہنے اور اعتراض کرنے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں اور مبلغین کی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے۔ان کے نزدیک گویا یہ لوگ ان کے باپ دادوں کا قرضہ اتار رہے ہیں۔وہ اپنی نادانی سے یہ نہیں سمجھتے کہ یہ لوگ ہمارا ہی کام کر رہے ہیں۔ایسے لوگوں کی مثال اس عورت کی سی ہے جو ایک اور عورت کے گھر آٹا پینے کے لئے گئی۔اس نے اس سے چکی مانگی۔گھر کی مالکہ نے اسے چکی دے دی۔تھوڑی دیر کے بعد اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ رات آٹا پیتے پیتے تھک گئی ہو گی اور اس کی مدد کروں۔چنانچہ اس نے اسے کہا کہ بہن تم تھک گئی ہو گی تم ذرا آرام کر لو میں تمہاری جگہ چکی پیستی ہوں۔وہ عورت چکی پر سے اٹھ بیٹھی اور ادھر اُدھر پھرتی رہی۔اچانک اس کی نظر ایک رومال پر جاپڑی، جس میں روٹیاں تھیں۔اس نے وہ رومال کھولا اور گھر کی مالکہ کو کہا، بہن تو میرا کام کرتی ہے تو میں تیرا کام کرتی ہوں اور یہ کہہ کر اس نے روٹی کھانی شروع کر دی۔تو بعض لوگ اس قسم کی روح ظاہر کرتے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ مبلغ کا شکریہ ادا کریں اور اس کی قربانیوں کی قدر کریں وہ ان پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔گویادہ مبلغ ان کے باپ دادے کا قرض دار تھا اور اب وہ قرضہ ادا کر رہا ہے اور اگر اس نے قرضہ کی ادائیگی میں ذرا بھی سستی دکھائی تو اس کے گلے میں پیسہ ڈال کر وصول کر لیا جائے گا۔اس قسم کے اعتراضات کرنے والے بڑے بے شرم ہیں وہ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ یہ ہمارا حق ادا کر رہا ہے اور جس کام کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہم پر رکھی ہے اسے یہ سر انجام دے رہا ہے۔وہ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں اور اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں ایسے لوگ قومی شخصیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے صرف فردی شخصیت کو سمجھتے ہیں۔پس ہماری جماعت کے ان لوگوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور اس کی اصل حقیقت سے واقف ہونا چاہئے۔ان ایڈرئیسوں میں ہمارے بچوں کے آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جسمانی طور پر بچوں کا آنا بے شک خوشی کا