مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 764
764 محبت کا اظہار کرتا ہے مگر دن چڑھے تو اس سے لڑنے لگ جاتا ہے۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بیان فرمایا ہے کہ اگر میاں کو اپنی بیوی سے واقعی محبت ہے تو وہ دن کے وقت اس سے کیوں محبت نہیں کرتا اسی طرح جو شخص کسی جلسہ میں وفاداری کا اعلان کر دیتا ہے اور مخفی طور پر ان لوگوں سے ملتا ہے جو جماعت میں تفرقہ اور فساد پیدا کرنے چاہتے ہیں تو یہ کوئی وفاداری نہیں کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ جو لوگ تمہارے ہم مذہب نہیں، ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔غیر مذ ہب والوں سے تعلق رکھنا منع نہیں۔حضرت ابن عباس کے متعلق آتا ہے کہ آپ جب بازار سے گزرتے تو یہودیوں کو بھی سلام کرتے اس لئے یہاں من دونکم کی تشریح کی گئی ہے کہ تم ان لوگوں سے الگ رہو جو لا یا لونكم بالا کے مصداق ہیں یعنی وہ تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی غیر مذاہب والا تمہارے اندر فتنہ اور فساد پیدا نہیں کرنا چاہتا تو وہ شخص من دونکم میں شامل نہیں۔اگر تم اس سے مل لیتے ہو یا دوستانہ تعلق رکھتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ایسا شخص جو تمہاری جماعت میں فتنہ اور فساد پیدا کرنا چاہتا ہے، اس سے تعلق رکھنا خد اتعالیٰ نے ممنوع قرار دے دیا ہے۔پھر آگے فرماتا ہے تم کہہ سکتے ہو کہ اس کی کیا دلیل ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ قَد بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنَ افَوَاهِهِم کچھ باتیں ان کے منہ سے نکل چکی ہیں وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمُ اكْبَرُ ان قیاس کر کے دیکھ لو کہ جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ کیا ہے۔کہتے ہیں ایک چاول دیکھ کر ساری دیگ پہچانی جا سکتی ہے اسی طرح یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے مثلاً ایک منافق نے بقول اپنے بھائی کے کہا کہ خلیفہ اب بڑھا اور پاگل ہو گیا ہے اب انہیں دو تین معاون دے دینے چاہئیں اور ہمیں جو شہادت ملی ہے اس کے مطابق اس نے کہا کہ اب خلیفہ کو معزول کر دینا چاہئے۔اس فقرہ سے ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اس کے پیچھے بغض کا ایک سمندر موجزن تھا۔جس شخص کا اپنا باپ جب اس نے بیعت لی تھی اس عمر سے زیادہ تھا جس عمر کو میں بیالیس سال کی خدمت کے بعد پہنچا ہوں۔وہ اگر کہتا ہے کہ خلیفہ بڑھا ہو گیا ہے اسے اب معزول کر دینا چاہئے ، تو یہ شدید بغض کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے ورنہ اس کے منہ سے یہ فقرہ نہ نکلتا۔شدید بغض انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔اگر اس میں ذرا بھی عقل ہوتی تو وہ سمجھ سکتا تھا کہ میں یہ فقرہ منہ سے نکال کر اپنے باپ کو گالی دے رہا ہوں۔جیسے انسان بعض اوقات غصہ میں آکر یا پاگل پن کی وجہ سے اپنے بیٹے کو حرامزادہ کہہ دیتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ یہ لفظ کہہ کر اپنی بیوی کو اور اپنے آپ کو گالی دے رہا ہے اسی طرح اس نوجوان کی عقل ماری گئی اور اس نے وہ بات کہی جس کی وجہ سے اس کے باپ پر حملہ ہو تا تھا۔دنیا میں کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کو گالی نہیں دیتا۔ہاں بغض اور غصہ کی وجہ سے ایسا کرلیتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ اپنے باپ کو گالی دے رہا ہے۔اس نوجوان کی مجھ سے کوئی لڑائی نہیں تھی اور نہ ہی میں اس کے سامنے موجود تھا کہ وہ غصہ میں آکر یہ بات کہہ دیتا۔ہاں اس کے دل میں بغض اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کی وجہ سے اس نے وہ بات کہی جس کی وجہ سے اس کے باپ پر بھی حملہ ہو تا تھا۔قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ قَديدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِم کہ ان کے منہ سے بغض کی