مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 722 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 722

722 اسے میں لکھوں تو وہ میری بات مان لیں گی چنانچہ اس نے اپنی نانی کو لکھا کہ مجھے یہاں ایک پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے اور جس طرح پنجرے میں بند کئے ہوئے جانور کو وہیں کھانا اور پانی مہیا کر دیا جاتا ہے اور اسے پیشاب اور پاخانہ بھی پنجرے میں ہی کرنا پڑتا ہے اس طرح مجھے بھی پیشاب اور پاخانہ پنجرہ میں ہی کرنا پڑتا ہے اور اسی میں مجھے کچھ کھانے پینے کو دے دیا جاتا ہے۔اگر کچھ عرصہ تک میری یہی حالت رہی تو میں مرجاؤں گا۔خدا کے لئے مجھے یہاں سے جلدی لے جاؤ۔نانی کو چونکہ نواسے سے محبت تھی اس لئے اس نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو لکھا کہ میرے نواسے کا خیال رکھا جائے اور اسے قید سے جلد رہا کیا جائے۔اتفاقاً وہ لڑکا بھی اس وقت پاس ہی بیٹھا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرمانے لگے میاں یہ خط پڑھ لو اور اس لڑکے سے پوچھو کہ وہ پنجرا کہاں ہے جس میں تم بند رہتے ہو۔اس لڑکے نے کہا میں چونکہ اداس ہو گیا تھا اور یہاں سے واپس جانا چاہتا تھا۔مجھے علم تھا کہ باپ میری بات نہیں مانے گا اس لئے میں نے چاہا کہ نانی کو ڈراؤں شاید کام بن جائے۔پس تم اپنی اصلاح کرو اور اپنا رویہ تبدیل کرو۔خصوصاً خدام الاحمدیہ سے میں کہتا ہوں کہ وہ خود بھی محنت کی عادت ڈالیں اور دوسروں کو بھی محنت کی عادت ڈلوائیں۔پھر اساتذہ کا بھی فرض ہے کہ وہ قوم کے بچوں میں محنت کی عادت پیدا کریں۔یہاں یہ رسم ہے کہ ہر کار کن یہ سمجھتا ہے کہ فلاں کام فلاں کر دے گا اور کوئی شخص کسی کام کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لیتا اور جب پکڑا جاتا ہے تو ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ یہ میرا قصور ہے۔میرا اپنا ایک عزیز ہے جو میرے کاموں پر مقرر ہے۔اس سے جب بھی دریافت کرو وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے تو یہ کام کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا ہو گیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے۔گویا خدا تعالیٰ سب اچھے کام بھول گیا ہے۔اب اس کا صرف اتنا ہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تمہارے کاموں کو خراب کرتا رہے۔تم یہ گندگی اپنے ذہن سے نکالو۔جب تم یہ گندگی اپنے ذہن سے نکال دو گے تو تمہارے اندر نئی زندگی نئی روح اور بیداری پیدا ہو جائے گی۔یورپ والوں کو دیکھ لو ان میں سے جب بھی کوئی پکڑا جاتا ہے تو وہ فورا اپنے قصور کا اقرار کر لیتا ہے اور کہتا ہے ، میں سزا کا مستحق ہوں، مجھے بے شک سزادی جائے لیکن ہمارے ہاں اگر کوئی پکڑا جاتا ہے تو کہتا ہے میرا اس میں کوئی قصور نہیں۔میں نے پوری محنت کی تھی۔نتیجہ خدا کے اختیار میں تھا اور جب اسے کوئی سزا دو گے تو فور دس آدمی آجائیں گے اور کہیں گے اس پر رحم کریں۔خدا تعالیٰ نے عفو اور رحم کی تعلیم دی ہے۔بیوی کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہے کہ اسے طلاق دو تو احسان سے کام لو۔آپ بھی احسان سے کام لیں۔اس قسم کی باتیں کرنے والے سے رحم کرنا عقل کی بات نہیں۔رحم اور احسان کا سوال انفرادی معاملات میں ہو تا ہے، قومی تنظیم میں نہیں ہو تا۔اگر قومی تنظیم میں بھی رحم اور احسان کیا جائے تو قوم کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔یورپ میں تم اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں دیکھو گے کہ کوئی شخص قومی جرم کرے اور پھر اس پر رحم کیا گیا ہو۔ایک نہیں میں نے بیسیوں تاریخی اور ایڈ منسٹر کتابیں پڑھی ہیں۔ان میں بیسیوں ایسی مثالیں پڑھی ہیں کہ ایک شخص جو اس حیثیت کا ہے کہ تم اس کا کپڑا چرا نے سے بھی ڈر گئے جب اسے کسی قصور میں پکڑا گیا شخص