مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 718
718 حضور نے اس خطبہ کے بارہ میں یہ ہدایت فرمائی تھی کہ یہ خطبہ ایک دفعہ ہر (بیت الذکر) میں سنایا جائے اسی طرح ایک ایک مرتبہ ہر جگہ کی خدام الاحمدیہ کی مجلس میں بھی سنایا جائے اس لئے اسے خدام الاحمدیہ کی راہنمائی کے لئے مشعل راہ میں شائع کیا جا رہا ہے۔(مرتب) میں نے اس سے پہلے خطبہ میں یہ بتایا تھا کہ ہماری ساری جماعت کو یہ عہد کر لینا چاہئے کہ وہ محنت سے کام کرے گی اور عقل سے محنت کرے گی اور پھر اپنے آپ کو ہر کام کے نتیجہ کی ذمہ دار قرار دے گی۔یہ ہیں تو ایک ہی چیز کے تین حصے لیکن یہ تین درجے ہیں۔اول یہ کہ محنت سے کام کیا جائے ، لیکن صرف محنت کے ساتھ کوئی کام مکمل نہیں ہو سکتا۔جب تک محنت عقل سے نہ کی جائے اور عقل سے محنت کبھی نہیں کی جاسکتی۔جب تک کہ انسان اپنے آپ کو نتائج کا ذمہ دار قرار نہ دے۔اگر کسی کا دل یہ محسوس کرتا ہے کہ ناکامی کی صورت میں وہ قوم کے سامنے ہزار بہانے بنا سکتا ہے اگر کسی شخص کو یہ یقین ہے کہ ناکامی کی صورت میں وہ اپنی عزت بچا سکتا ہے اور اپنی شہرت اور مقام کو محفوظ رکھ سکتا ہے تو وہ یقینا پوری محنت نہیں کرے گا۔کیونکہ کسی کام کو محنت سے کرنے کے بڑے بڑے (Incetive) یعنی محرک اور سبب دنیا میں یہی ہوتے ہیں کہ انسان چاہتا ہے کہ اس کام کے نتیجہ میں وہ سرخروئی حاصل کرے۔وہ اپنی قوم اور اپنے مالک کے سامنے سرخروئی حاصل کرے اور اردگرد کے لوگوں میں عزت حاصل کرے۔اگر یہ محرک نکال دو۔یا باوجود ناکامی کے اس چیز کا کوئی اور سبب قرار دو تو انسان محنت نہیں کرے گا وہ لوگ جنہیں خدا تعالی کی طرف سے ایک آگ دی گئی ہے وہ اس سے مستثنی ہیں۔انبیاء اور مصلح اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدائشی طور پر ایک آگ لے کر آتے ہیں۔انہیں کسی کے سکھانے اور تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان کے اندر ایک آگ ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا کے اندر ایک تغیر پیدا کر دیتے ہیں۔وہ انقلابی وجود بنا دیا۔یا جنہیں خدا تعالیٰ نے آگ دے دی سودے دی لیکن اگر کسی کو دنیا میں تربیت سے انقلابی وجو د بنانا ہو تو وہ بغیر کسی ذریعہ کے نہیں بنے گا اور وہ ذریعہ انسانی کاموں میں یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ احساس ہو کہ اگر اس کی محنت بار آور ہو تو وہ عزت پا جائے گا۔وہ سرخروئی حاصل کرلے گا اور اگر ناکام رہا تو قوم اس کی زبان کے سارے بہانے رد کر دے گی اور کہے گی یہ شخص کذاب ہے۔اس نے ہماری قوم کا بیڑا غرق کیا ہے۔جس شخص کے اندر یہ احساس موجود ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے گا اور جس شخص کے اندر یہ احساس نہیں وہ