مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 708

708 انگریزی کی ایک مثل ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قافلہ چلتا جاتا ہے اور کتے بھونکتے جاتے ہیں۔الفاظ اس مثال کے سخت ہیں لیکن مطلب صرف یہ ہے اور اسی مطلب کی طرف میرا اشارہ ہے کہ جب کسی خاص مقصد کو لے کر انسان کھڑ ا ہوتا ہے تو ہمیشہ ہی اچھے مقصد کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن جن لوگوں نے اپنا کوئی مقصد قرار دیا ہو تا ہے وہ اس مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے اور اپنے کام میں لگے رہتے ہیں اور جب تک وہ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں دنیا اپنے منہ سے اقرار کرے یا نہ کرے دل میں ضرور یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے سامنے کوئی مقصد ہے کیونکہ بغیر مقصد کے کوئی شخص مخالفتوں کا مقابلہ نہیں کیا کر تا۔جب بے مقصد لوگوں کی مخالفت ہو تو وہ فورا کام چھوڑ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں نقصان اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔مثلا ایک شخص کسی گلی میں سے گذر رہا ہو اور سوائے گذر جانے کے اس کی کوئی اور غرض نہ ہو اور راستہ میں اسے ڈاکو مل جاتے ہیں یا وہ دیکھتا ہے کہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں تو بے مقصد انسان فورا اس گلی سے لوٹ کر دوسری گلی میں نکل جائیگا لیکن اگر کوئی کمزور عورت اس گلی میں سے دوائی لے کر گذرتی ہے اور فرض کرو اس کا بچہ بستر مرگ پر پڑا ہوا ہے تو خواہ اس راستہ میں ڈاکو ملیں، فسادی نظر آئیں، وہ نظر بچاتی اور دیواروں کے ساتھ چھپٹتی ہوئی وہاں سے گذر جائے گی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میرا یہاں سے گذرنا ضروری ہے اور دوسرا سمجھتا ہے کہ میرا یہاں سے گذر ناضروری نہیں۔۱۹۵۳ء کے فسادات میں غیر معمولی جماعتی استقلال گذشتہ ایام میں جو فسادات ہوئے ان کے متعلق جہاں تک گورنمنٹ کا نقطہ نگاہ ہے وہ محسوس کرتے تھے کہ انتہا درجہ کے فسادات جو کسی ملک میں رونما ہو سکتے ہیں، وہ یہاں پیدا ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود لاکھوں کی جماعت میں سے صرف پندرہ سولہ آدمی تھے جنہوں نے کمزوری دکھائی اور جب انکوائری کمیٹی بیٹھی تو آئی۔جی یا چیف سیکر ٹری کا بیان تھا کہ ہمارے علم میں صرف ایک شخص ایسا ہے جو ابھی تک واپس نہیں ہوا۔باقی سب جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکے ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اب سارے ہی واپس آچکے ہیں سوائے ایک دو کے جو پہلے ہی احمدیت سے منحرف تھے اور خواہ مخواہ ان کو اس لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ ہم صحیح مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔صرف ان کے دل کی کمزوری یا بز دلی تھی جس کی وجہ سے عارضی طور پر ان کا قدم لڑکھڑا گیا بلکہ گوجر انوالہ میں تو ایک لطیفہ ہو گیا۔ایک احمدی جو کمزور دل تھا اس پر مخالفین نے دباؤ ڈالا تو اس نے کہہ دیا کہ میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں۔وہ بڈھا آدمی تھا اس نے سمجھا کہ دل میں تو میں مانتا ہوں اگر منہ سے میں نے کچھ کہہ دیا تو کیا ہوا۔بہر حال لوگ اس خوشی میں لوٹ گئے اور انہوں نے نعرے مارنا شروع کر دیئے کہ ہم نے فلاں مرزائی سے توبہ کر والی ہے۔مسجد کے امام کو بھی اس کی خبر ہوئی۔وہ ہوشیار آدمی تھا۔اس نے پوچھا تمہیں کس طرح پتہ لگا ہے کہ اس نے مرزائیت