مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 687

687 ہو گی کہ وہ کر نیل کے بجائے اس چپڑاسی کو اپنا امیر بنائے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نظم کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہو۔اگر وہ چپڑاسی ایسا ہو کہ جب کوئی کر نیل آئے تو اسے سلیوٹ کرنے لگ جائے تو پھر وہ بھی اس عہدہ کے مناسب نہیں ہوگا کیونکہ خدام کے دفتر یا جلسہ میں کرنیل کو سلام کرنے کا سر کاری حکم نہیں ہے۔ہونا یہ چاہئے کہ فوج اور چھاؤنی میں وہ سپاہی یا چپڑاسی سلیوٹ کرے اور خدام کے دفتر میں کر نیل آئے تو چپڑاسی کو سلام کرے۔جو دیندار چیز اسی اپنے عمدہ و کار قار قائم رکھ سکے وہ کر نیل کی نسبت امیر ملنے کا زیادہ مستحق ہے۔یہ رنگ نظم کا تمہارے اندر آنا چا ہے۔اپنا وٹ ضائع نہیں کرنا چاہئے اور صحیح طور پر دینا چاہئے۔جو انتخاب تم نے کیا ہے وہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔اس لئے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ تم نے بغیر سوچے سمجھے اپنا دوٹ دے دیا ہے۔سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ۳۱ اکتوبر کے بعد جو سال شروع ہوتا ہے اس میں مرزا ناصر احمد مجلس خدام الاحمدیہ کے نائب صدر نہیں رہیں گے کیونکہ ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور وہ مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبر نہیں رہے۔میں نے انہیں دو سال کے لئے نائب صدر مقرر کیا تھا تا کہ ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جائے۔باقی جو انتخاب کیا گیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے۔۱۰ ۴۹ میر داؤ د احمد صاحب چوبدی شبیر احمد صاحب قریشی عبدالرشید صاحب 1۔9 ۷۰ مرزا منور احمد صاحب مرزا طاہر احمد صاحب مولوی غلام باری صاحب سیف -1 میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ دونگ عقل اور سمجھ پر کس طرح مبنی ہے۔اس میں یا تو جنبہ دار کی سے کام لیا گیا ہے اور یا بھیڑ چال اختیار کی گئی ہے۔ہو سکتا ہے کہ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہو لیکن میرے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔طاہر احمد شاگر د ہے اور مولوی غلام باری صاحب سیف استاد ہیں۔استاد کو بہت کم ووٹ ملے ہیں اور شاگر د کو زیادہ اور یہ استاد کی کنند منیشن (Condemnation) ہے۔اس کے یہ معنے ہیں۔کہ استاد نالائق ہے اور شاگرداچھا ہے۔ممکن ہے میرے ذہن میں بھی ان کے خلاف بعض باتیں ہوں لیکن تمہارے نقطۂ نگاہ سے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ استاد کے مقابلہ میں شاگرد کو زیادہ ووٹ تم نے کس طرح دے دیئے۔جب طاہر احمد کے مقابلہ میں اس کا استاد موجود تھا تو تم نے کم ووٹ کیوں دیئے۔پھر قریشی عبدالرشید صاحب ہیں۔قریشی صاحب خدام الاحمدیہ کے پرانے ورکر ہیں۔ان کو بھی انتخاب میں دوسروں سے نیچے گرا دیا گیا ہے۔میں گراتا تو اس کی کوئی وجہ ہوتی۔جو وجوہات میرے پاس ہیں وہ تمہارے پاس نہیں۔یہ لوگ میرے ساتھ کام کرتے ہیں اس لئے مجھے ان کے نقائص اور خوبیوں کا علم ہے۔لیکن تمہارے گرانے کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔اس سے بھی ظاہر ہو تا ہے