مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 683
683 ہمارے ہاں مسائل کی بنیاد چونکہ احادیث پر ہے اور احادیث میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض صحابہ نے ننگے سر نماز پڑھی۔اس لئے ہم اس تشدد کے قائل نہیں کہ ننگے سر نماز ہوتی ہی نہیں۔ہمارے نزدیک اگر کسی کے پاس ٹوپی یا پگڑی نہ ہو اسی طرح سر ڈھانکنے کے لئے کوئی رومال وغیرہ بھی اس کے پاس نہ ہو تو ننگے سر نماز پڑھی جاسکتی ہے لیکن ہر عالم چاہے وہ کتنا بڑا ہو بعض دفعہ مسائل میں دھو کہ کھا جاتا ہے اور بعض دفعہ ایجاد بندہ کہہ کر غلو تک بھی چلا جاتا ہے -- حافظ روشن علی صاحب نے جب حدیث میں یہ پڑھا کہ بعض مواقع پر صحابہ نے ننگے سر نماز پڑھی تو انہوں نے یہ پر چار کرنا شروع کر دیا کہ ننگے سر نماز پڑھنانہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن امر ہے۔میں نے ان سے اس کے متعلق کئی دفعہ بحث کی۔میں نے انہیں بتایا کہ جس زمانہ میں صحابہ ننگے سر نماز پڑھتے تھے اس زمانہ میں کپڑے نہیں ملتے تھے چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک جگہ کے مسلمانوں کو امام میسر نہ آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک لڑکے کو جو آٹھ نو سال کا تھا اور اسے بعض سورتیں یاد تھیں ان کا امام مقرر کر دیا۔وہ لڑکا غریب تھا۔اس کے پاس کر نہ تھا، پاجامہ نہیں تھا۔کر تہ بھی کچھ اونچا تھا۔اس لئے جب وہ سجدے میں جاتا تھا کر نہ اونچا ہو جاتا تھا اور وہ ننگا ہو جاتا تھا۔عورتوں نے شور مچا دیا اور کہا ارے مسلمانو! تم چندہ کر کے اپنے امام کا ننگ تو ڈھانکو۔اب اگر اس حدیث کو پڑھ کر کوئی شخص یہ کہنا شروع کر دے کہ امام کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ پاجامہ نہ پہنے صرف کر نہ پنے اور کر تہ بھی اتنا چھوٹا ہو کہ وہ سجدہ میں جائے تو نگا ہو جائے، یہ درست نہیں ہو گا۔بہر حال یورپین اثر کے نتیجہ میں احتراما سر ننگار رکھنے کی بدعت پیدا ہوئی اور انگریزی حکومت کے دوران میں یہ مرض بڑھتی چلی گئی حالانکہ اسلامی لحاظ سے یہ غلط طریق ہے۔یہ بات درست ہے کہ اسلام ایسی کوئی پابندی نہیں لگا تا جو انسانی طاقت سے بڑھ کر ہو لیکن جو بات انسانی طاقت میں ہو، اسے حقیقی عذر کے بغیر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہو سکتا۔اسلامی طرق کار یہ ہے کہ ادب کے طور پر انسان اپنا سر ڈھانکے۔حضرت خلیفۃ المسح الاول درس و تدریس کے دوران میں بعض اوقات سر سے پگڑی اتار دیتے تھے لیکن اگر اس دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لے آتے تو آپ فورا پگڑی اٹھا کر سر پر رکھ لیتے۔پس ایسے کاموں کے موقع پر اگر کسی کے پاس ٹوپی یا پگڑی نہ ہو تو وہ سر پر رومال ہی باندھ لے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو اس کے لئے کوئی پابندی نہیں۔اگر اس لڑکے کی طرح کسی کے پاس صرف کر یہ ہی ہو پاجامہ نہ ہو تو اسے بغیر پاجامہ کے نماز پڑھنا جائز ہے۔اسی طرح اگر کسی کے پاس ٹوپی یا پگڑی یا رومال نہ ہو تو وہ ننگے سر کھڑا ہو سکتا ہے۔ساتھ والے یا تو اسے معذور سمجھیں گے یا چندہ کر کے ٹوپی یا پگڑی و غیرہ خرید دیں گے جو کام انسانی طاقت سے بالا ہو اسلام اس کا حکم نہیں دیتا لیکن جس کام کی انسان میں طاقت ہو یا جس کا ازالہ آسانی سے کیا جا سکتا ہو اس کا بعض دفعہ حکم دے دیتا ہے اور بعض دفعہ کہہ دیتا ہے کہ اس پر عمل کرنا عمل نہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو تمہارا فعل آداب کے خلاف ہو گا۔باقی رہاہاتھ باندھ کر کھڑ ا ہو نا۔ا