مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 654
654 دعائیں ، ذکر الہی ، بیچ کی عادت اور محنت وہ ذرائع ہیں جن سے تم کامیاب ہو سکتے ہو (یہ تقریر حضور نے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر فرمائی تھی) فرمایا۔” جو خدام یہاں بیٹھے ہیں وہ خدام کی اس تعداد کا ایک تہائی یا ایک چوتھائی ہیں جو مجھے بتائی گئی ہے۔خدام الاحمدیہ کا یہ اجتماع تربیتی اور تعلیمی ہوتا ہے۔کھیلیں وغیرہ تو ایک زائد چیز ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ منتظمین نے کھیلوں کو اصل چیز سمجھ لیا ہے اور وعظ و نصیحت اور تربیت کو ایک ضمنی اور غیر ضروری چیز فرض کر لیا ہے۔اس لئے انہوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ جبکہ میں خدام الاحمدیہ کو خطاب کرنا چاہتا تھا تو وہ انہیں پورے طور پر یہاں حاضر کرتے اور انہیں میری باتیں سننے کا موقعہ دیتے۔چونکہ ایسے موقعہ پر باہر سے آئے ہوئے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں اس لئے اگر انہیں نکال دیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس مجلس میں چار سو یا ساڑھے چار سو سے زیادہ خدام نہیں۔پرسوں خدام الا حمدیہ کی جو تعداد مجھے بتائی گئی تھی وہ ساڑھے دس سویا گیارہ سو تھی جو آج لازمابارہ تیرہ سو ہونی چاہئے تھی۔(حضور نے دفتر والوں سے دریافت فرمایا کہ اس سال کتنے خدام اجتماع میں شامل ہوئے ہیں اور پچھلے سال اجتماع میں شامل ہونے والے خدام کی تعداد کیا تھی۔اس پر دفتر کی طرف سے جو اعدادو شمار پیش کئے گئے وہ یہ تھے۔سال گذشته ۶ ۷ ۸- موجوده سال ۱۰۶۲)- حضور نے فرمایا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال پونے دو سو خدام زیادہ آئے ہیں لیکن جہاں تک میرا تاثر ہے دفتر مرکز یہ اعداد و شمار کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا حالانکہ اس سے کئی نتائج نکالے جاسکتے ہیں۔ہر دفعہ سوال کرنے پر ہانپتے کانپتے اور لرزتے ہوئے اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ اعداد و شمار کے کام کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کبڈی اور فٹ بال کے میچوں کو دی جاتی ہے ورنہ تمام اعداد و شمار ہر وقت اپنے پاس رکھے جاتے اور منتظمین سوال کرنے پر دلیری سے جواب دیتے اور پھر صرف ایک سال کے ہی نہیں ، دفتر کے پاس ہر سال کا ریکارڈ ہونا چاہئے یعنی انہیں سوال کرنے پر فوری طور پر بتانا چاہئے کہ ۱۹۵۲ء میں کتنے خدام آئے۔۱۹۵۱ء میں کتنے آئے۔۱۹۵۰ء میں کتنے آئے - ۱۹۴۹ء میں کتنے آئے۔۱۹۴۸ء میں کتنے آئے۔اعداد و شمار ہی کسی قوم کا اصل ٹمپریچر ہیں۔آجکل بیماریوں کی تشخیص نمبر پچر دیکھ کر کی جاتی ہے۔جب ٹمپر یچر معلوم ہو جائے تو انسان کو یہ تسلی ہو جاتی ہے کہ مرض کی یہ شکل ہے۔ٹمپر یچر ہی بتاتا ہے کہ مریض کو ٹائیفائڈ ہے یاملیری ہے۔پھر نمپر یچر ہی بتاتا ہے کہ مرض خراب ہو رہا ہے یا مریض شفا کی طرف جارہا ہے۔پھر ٹمپریچر ہی بتاتا