مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 644

644 نوجوان دلوں کی اصلاح کریں۔حضور نے ۳۱ اکتوبر ۱۹۵۲ء کو ایک خطبہ جمعہ میں جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری جماعت کو اپنے اندر استقلال پیدا کرنا چاہئے۔خدا تعالیٰ انہیں نے ایک عظیم الشان روحانی تغیر کاذمہ دار قرار دیا ہے اور یہ عظیم الشان تغیر دلوں کی اصلاح سے ہی ہو سکتا ہے ، بیرونی اصلاح سے نہیں۔اس خطبہ کے آخری حصہ میں حضور نے احمدی نوجوانوں کو جو نصیحت فرمائی ہے وہ نیچے درج کی جارہی ہے۔(مرتب) " مجھے اس خطبہ کی تحریک خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع سے ہوئی ہے۔نوجوانوں کا جلسہ ہو رہا ہے اور وہاں لفٹ رائٹ۔لفٹ رائٹ ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے بھی اصلاحیں ہوتی ہیں لیکن یہ اصلاحیں زیادہ دیر تک نہیں چل سکتیں۔اس کے مقابلہ میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تبدیلی پیدا کی وہ دل سے تعلق رکھتی تھی۔اس کا تعلق اندرون سے تھا اس لئے آپ ایک حقیقی تبدیلی پیدا کر گئے۔آج آپ کی لائی ہوئی تعلیم پر چودہ سو سال گذرنے کو ہیں لیکن اس کے نقش ابھی قائم ہیں۔فلاسفروں کی کتب پڑھنے والے آج بھی ہزاروں ہوں گے۔جالینوس کی کتابیں پڑھنے والے سینکڑوں ہوں گے لیکن ان پر عمل کرنے والا کوئی نہیں ملے گا لیکن محمد رسول اللہ ملی لی اہلیہ کی لائی ہو ئی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے اس گئے گزرے زمانہ میں بھی لاکھوں کی تعداد میں ہوں گے۔اس کے مقابل پر آپ کے بعد جو فلسفی آئے ان کی تعلیم پر عمل کرنے والے دس افراد بھی نہیں ملتے۔پس جس تغیر کے نقش مستقل ہوتے ہیں وہی تغیر بابرکت ہو تا ہے ورنہ صرف ظاہری تبدیلی اچھی نہیں۔دنیا ایک روحانی تغیر چاہتی ہے اور وہ تغیر ضرور ہو کر رہے گا۔اس تغیر کو کوئی نہ کوئی جماعت پیدا کرے گی کیونکہ خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ ایسا تغیر کوئی جماعت ہی پیدا کرتی ہے پس جب ایسا تغیر مقدر ہے تو ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ کوشش کریں کہ ہمیشہ ہمیش یادگار قائم کرنے والا کام ان سے ہو جائے۔اگر وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ یہ تغیر دلوں سے پیدا ہو گا۔ظاہر سے دل نہیں بدلتا۔دل سے ظاہر بدلتا ہے۔بے شک بعض دفعہ ظاہر سے بھی دل بدل جاتے ہیں لیکن نہایت آہستہ آہستہ۔صحیح طریق یہی ہے کہ پہلے دلوں کی اصلاح کی جائے اور پھر ظاہر کو بدلا جائے کیونکہ روحانی تبدیلی دل سے پیدا ہوتی ہے اور پھر سے تعلق پیدا کرتی ہے۔" (فرموده ۳۱ اکتوبر ۱۹۵۲ء مطبوعه الفضل ۲ فروری ۱۹۶۱ء)